ہتھیلی پہ رقصاں قفس بھر پہیلی | مسلم انصاری

ہتھیلی پہ رقصاں قفس بھر پہیلی
کیوں یہ بارش نہیں تھم رہی کہ تھمے اور ہم
اپنا بستر لپیٹیں،
گھڑی ہاتھ پر باندھ کر، بیگ میں بھر کے اک خواب کی کرچیاں،
چھت پہ ٹانگی ہوئیں چند جرابوں کی بس جوڑیاں،
ایک کرتا، کتابیں، آوازیں
(آوازیں کہ جن سے مانوس ہونے میں کتنی ہی صدیاں لگیں پر نہ چہرے دکھے اور نا ہی وہ ہونٹ بھی)
سب اکٹھا کریں اور خود میں بھریں!
یا اسی بیگ میں؟
(جس میں پہلے سے رکھی ہوئی نیند کو رات کے جگنوؤں نے قفس کر دیا؟)
ہاں اسی بیگ میں!
جس میں دو مور کے پنکھ ہیں
ایک تتلی بھی ہے جو کبھی اس حسینہ کے ہاتھوں پہ رقصاں رہی
تین ٹیشو بھی ہیں جن کے اندر کہیں اس کے بوسوں کا مدھم سا رنگ جذب ہے
اور تو اور!
ٹوٹے داندان کی پُر خطر کنگھیاں
جن سے زلفیں سنواریں تو پھر درد کی سر سے ٹیسیں اٹھیں!
(اب جگہ ہی نہیں ہے اسی بیگ میں!
اک تو بارش نہیں تھم رہی اور پھر یہ بھی سوچیں کہ کیا کیا بھریں؟)
گر یہ بارش تھمے تو محبت میں باندھے گئے ماں کے تعویذ کو چوم کر
بہن کی سمت سے آئے تحفے کی اس شال کو اوڑھ کر
جس کے کونوں میں ہر رنگ کے پھول ہیں
اے عظیمِ ہجر! آ فنا ہو چلیں!
اگلی منزل کی جانب رواں ہو چلیں!!




