غزل /کیسے چپ چاپ میں کربل سے گزر سکتا ہوں /دانش عزیز

غزل
دانش عزیز
سُرخ سینہ کیے اَشک آنکھوں میں بھَر سکتا ہوں
کیسے چُپ چاپ میں کَربل سے گُزر سکتا ہوں
سمِ اسپاں سے سَرِ دَشت جِنہیں کچلا گیا
دیکھنا دور انہیں سوچ کے مر سکتا ہوں
ہائے اک تازہ ہنسی ریت میں دفناتا ہوا
کیسے اس صبر کے دریا میں اتر سکتا ہوں
نعمتِ گریہ نے سانسوں کو بحالی بخشی
ورنہ دکھ ایسا کہ اک پل میں بکھر سکتا ہوں
میں حسینی ہوں ترے ہاتھ پہ لکھا ہے یزید
تیری تلوار سے کیسے بھلا ڈر سکتا ہوں
تو مجھے شوق سے دریا کے حوالے کردے
پمپوِردِ اکبر کی فضیلت سے ابھر سکتا ہوں
منتظر کب سے عزادار میں ینصرنا کا
شوق سے جان ہتھیلی پہ بھی دھر سکتا ہوں
میں وہ آئینہ جسے گرد نے بے رنگ کیا
اک نظر دیکھ لیں شبیر ، سنور سکتا ہوں
دشت سے عابدِ بیمار کا گریہ کرتے
تازیانوں کی مَعِیَّت میں گزر سکتا ہوں
سر برہنہ کوئی بازار میں آیا دانش
ایک ماتم ہی بچا ہے جو میں کر سکتا ہوں




