غزل
غزل | انیس و میر ہیں ، مژدم ہے، میں ہوں ، آپ نہیں | مبشر رحمان
غزل
انیس و میر ہیں ، مژدم ہے، میں ہوں ، آپ نہیں
کسی کے ہوں گے، مگر شاعری کے باپ نہیں
سخن وری کا لبادہ منافقت سا ہے
جو اصل آپ ہیں اُس کو چھپانا پاپ نہیں؟
نیا زمانہ اگر ہے، نئے اصول بنا
پُرانی ٹیپ سے تُو میرے قد کو ناپ نہیں
صدائے کن فیکوں شعر میں نہیں ہوتی
مری اولاد پہ ہرگز کسی کی چھاپ نہیں
جو دل پہ بیت رہی ہے بیان کرتے ہیں
فنونِ شعر ہے حلوائیوں کی شاپ نہیں




