ایک مضمون کے شعر مگر الگ الگ زاویے | باسط پتافی

ایک مضمون کے شعر مگر الگ الگ زاویے | باسط پتافی
اس تقابل کو بے ساختہ تقابل کہنا موزوں ہوگا کیونکہ اتفاقی طور پر بیک وقت دو شعر نظروں سے گزرے تو ان میں فطری تقابل پنہاں نظر آیا لہذا یہ تقابل گویا دریافت ہے اور جس کا سہرا اتفاق کے سر جاتا۔
قبل از تقابل شعر ملاحظہ ہوں:
مجھے خبر ہے کہ وہ لا جواب کر دے گا
مگر میں پھر بھی سوالات کرنے آیا ہوں
طاہر شیرازی
اگرچہ وقت مناجات کرنے والا تھا
مرا مزاج سوالات کرنے والا تھا
رفیع رضا
دونوں میں ایک شے مشترک ہے اور وہ ہے دونوں کے سوال کرنے کا مزاج، دونوں محض سوال کرنے کے حق میں نہیں بلکہ کرنے کی ہمت بھی رکھتے ہیں۔ تاہم اس اشتراک کے باوجود دونوں میں فرق بھی ہے۔ پہلے شعر کا شاعر اپنے لا جواب ہونے کا علم رکھتا ہے اور اس کے دو سبب ہو سکتے:
الف) جواب دینے والا نہایت قابل یا ہر طرح سے سپریم ہے
ب) یا یہ سوالات کی ہمت رکھنے کے باوجود سائل کا اظہار عجز ہے۔
اس علم کے باوجود کے میں لاجواب ہو جاؤں گا پھر بھی سوالات کرنے سے پیچھے نہیں ہٹا جا رہا۔ (ممکن ہے سوالات کی صورت شکوے کیے جائیں تاکہ دل کا بوجھ ہلکا ہو یا اپنی ذمہ داری نبھائی جائے) دوسرے شعر کا شاعر ایک خاص وقت میں مناجات کے بجائے سوال کے لیے اٹھتا ہے اور یہ یوں مناجات و سوال کا تقابل کر کے وہ دوسروں کو عبد دیکھتا اور خود کو باغی تصور کرتا ہے اور اس کے یہاں سامنے والے کی کوئی رعایت کا تصور زیر بحث نہیں بلکہ اپنے ہی جیسے لوگوں کا تذکرہ ہے جو مناجات کے عادی ہیں مگر شاعر خود ان سے ہٹ کر سوال اٹھانے والوں میں سے ہے۔ ایک اور فرق زمانے کا ہے، پہلے شعر کا خالق حال کی بات کر رہا ہے اور خود ہی اپنے مستقبل کا بتا رہا ہے جبکہ دوسرے شعر کا خالق ان سب چیزوں کو ماضی کے پیرائے میں بیان کر رہا ہے۔ اگر دونوں شعروں میں نفسیات کی نظر سے دیکھا جائے تو پہلا شعر انسان کی اس نفسیات پر بات کر رہا ہے کہ کبھی کبھی وہ اپنی عادت یا شخصی طور طریقوں کو بروئے کار لاتا ہے یا بضد ہوتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو پورا کرے جبکہ وہ جانتا ہے کہ اس تکمیلِ خواہش کا انجام کیا ہوگا۔یعنی ضد، تکمیلِ خواہش کے لیے مستقبل کی نظر اندازی، خود میں مگن جیسے نفسیاتی پہلو مل جاتے ہیں۔ اور دوسرے شعر میں بغاوت، دوسرے کے لیے تحقیر، ماننے کی عادت کو حقارت سے کرنا اور اپنی انفرادیت قائم رکھنے کی نفسیات نظر آتی ہے۔
التفات : تقابل کی غرض دونوں شعر کے امتیازی پہلو کھنگالنا ہے، اس سے ہرگز یہ مقصود نہیں کہ کسی ایک شعر کو اچھا اور دوسرے کو کمتر ثابت کیا جائے۔


