اُردو ادباُردو شاعرینظم
نظمیں رک گئی ہیں / عالیہ مرزا
نظمیں رک گئی ہیں
کچھ نظمیں چلتے چلتے
کسی موڑ پر رک جائیں
تو یادوں کی دراڑوں میں اچانک
دل زور سے دھڑکتا ہے
وقت کی پشت پر پڑی
کئی منہ زور آندھیوں کی لگامیں
ٹوٹ کر گر جاتی ہیں
میں نے تنہائی کو دیوار سے ٹیک لگائے
اکیلے باتیں کرتے دیکھا
مگر میرے پاس یہ باتیں سننے کا
وقت نہیں تھا
کیونکہ میرے کاموں کی فہرست
طویل ہوتی جا رہی ہے
اب آنکھوں کی بوسیدگی سفید کاغذ پر، کالے حرفوں سے جنگ پر
آمادہ رہنے لگی ہے
کوئی نظم مکمل نہیں ہوتی
صبح کی چائے انتظار میں شام تک
دھری رہتی ہے
نظمیں چلتے چلتے کہیں رک گئی ہیں ۔۔۔




