نظم

ٹیرس پہ کھڑی دھوپ | مہرعلی

ٹیرس پہ کھڑی دھوپ 

دھوپ نے اس کے لبوں کو

 سرخ انگاروں کے جیسا کردیا

اور اس کی آنکھوں کا کٹورا نیم خوابیدہ، طلسمی چاندنی سے بھر دیا

رخسار کچھ ایسے

 کہ جیسے صبح کے باغیچے میں سورج کا رنگا رنگ جھرنا پھوٹ جائے

 

میں،

یہ منظر دیکھ کر

(جو ایک لمحے سے زیادہ بھی نہیں،

کم بھی نہیں)

حس و خبر کی سیڑھیوں سے گر گیا ہوں 

ہو بہو ایسے،

کہ جیسے اک لچکتی شاخ سے پھل ٹوٹ جائے

Author

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button