غزل / ٹوٹتی ٹہنیاں، رُوٹھتی لڑکیاں، کوندتی بجلیاں سب سے ڈرتا ہوں میں / یاور عظیم
غزل
ٹوٹتی ٹہنیاں، رُوٹھتی لڑکیاں، کوندتی بجلیاں سب سے ڈرتا ہوں میں
جس قدر حادثے میری قسمت میں ہیں میری عمرِ رواں! سب سے ڈرتا ہوں میں
تُو نے بھیجا ہے جب سے زمیں پر مجھے، ڈر نے چھوڑا نہ میرے کہیں پر مجھے
اور رہنا بھی ہے پھر یہیں پر مجھے، میرے اللّہ میاں سب سے ڈرتا ہوں میں
گاہ ڈرتا ہوں اُجڑا نگر دیکھ کر، گاہ ڈرتا ہوں کوئی کھنڈر دیکھ کر
گاہ ڈرتا ہوں خود اپنا گھر دیکھ کر، الحفیظ! الاماں! سب سے ڈرتا ہوں میں
میرے دشمن ہیں اہلِ زمانہ بہت، تھوڑے حاضر ہیں اور غائبانہ بہت
سب بناتے ہیں مجھ کو نشانہ بہت، از کراں تا کراں سب سے ڈرتا ہوں میں
مثلِ آسیب ہے سایہء گل مجھے، چشمِ عبرت سے دیکھے ہے بلبل مجھے
سانپ جیسی لگے زلفِ سنبل مجھے، بر سرِ گلستاں سب سے ڈرتا ہوں میں
زخم کھاتا ہوں میں اپنے ماحول سے، زَک اٹھاتا ہوں میں اپنے ماحول سے
سہما جاتا ہوں میں اپنے ماحول سے، ہوں اسیرِ گماں سب سے ڈرتا ہوں میں
زندگی درد و غم کی امیں ہے مری، خونِ تازہ سے روشن جبیں ہے مری
خود ریاست محافظ نہیں ہے مری، ڈھونڈتا ہوں اماں، سب سے ڈرتا ہوں میں
دل یہ کہتا ہے میں شاعری چھوڑ دوں، کارِ بے کارِ مصرع گری چھوڑ دوں
یہ تخیّل کی وادی ابھی چھوڑ دوں، جاؤں لیکن کہاں، سب سے ڈرتا ہوں میں
میں کہ خائف رہا اپنے ماں باپ سے، اور رشتہ بنایا نہیں آپ سے
عمر بھر میں نہ نکلا کسی شراپ سے، یاورِ مہرباں! سب سے ڈرتا ہوں میں




