پاکستان کا واحد آپشن / سرفراز راجا

بین الاقوامی تعلقات میں کوئی چیز اہم ٹھہرتی ہے تو وہ ہے مفادات،ملکوں کے درمیان اچھے برے تعلقات کا دار و مدار مفادات پر ہی ہوتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ گلوبل ویلج کہلائی جانیوالی اس دنیا میں ہر ملک کا کسی دوسرے ملک سے کوئی نہ کوئی مفاد وابستہ ہوتا ہی ہے۔ فرق صرف ہوتا ہے چھوٹے اور بڑے مفاد کا۔ ہمارے یہاں اسلامی اْمّہ کے ایک نہ ہونے کی باتیں ہمیشہ کی جاتی ہیں لیکن سمجھنے کی بات ہے یہ مسلم اْمّہ چھپن ستاون ملکوں پر مشتمل ہے سبھی کے اہنے معاملات اپنے اپنے مسائل اور اپنی اپنی جغرافیائی صورتحال ہے اور انہی معاملات سے منسلک مفادات ہیں جو اتحاد کے آڑے آجاتے ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا میں کہیں کوئی بڑا معاملہ یا معرکہ ہو الگ الگ موقف سامنے آجاتا ہے اور بعض اوقات تو فریقین میں سے کسی ایک کی بھی کھل کر حمایت مشکل ہوجاتی ہے۔ دنیا کی حالیہ صورتحال بھی کچھ ایسی ہی بن چکی ہے۔ اسرائیل نے رات کی تاریکی میں ایران پر حملہ کیا اس کی اعلی فوجی قیادت اور اہم شخصیات کی جان لے لی اور پھر امریکہ براہ راست اس جنگ میں کود پڑا لیکن کئی بڑے ممالک کو اس صورتحال میں کھل کر اپنا موقف ہیش کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔ دنیا کوچھوڑ کر بات کرلیتے ہیں پاکستان کی۔ پاکستان اسرائیل کو تو تسلیم ہی نہیں کرتا لیکن امریکہ اور ایران کیساتھ پاکستان کے تعلقات بھی ماضی میں مثالی نہیں رہے۔ ان میں مختلف اوقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔
اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد پاکستان نے مسلم ملک ہونے کے ناطے کھل کر ایران کیساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا پاکستانی قیادت تے تہران کے دورے بھی کئے، دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اپنے گزشتہ دور حکومت میں پاکستان کے حوالے سے بیانات میں جارحانہ انداز اپنائے ہوئے تھے موجودہ انتظامیہ میں ان کا جھکاؤ پاکستان کی جانب دکھائی دے رہا ہے۔ کھل کر بات کرنے میں مشہور ٹرمپ نے حالیہ دونوں میں کھل کر پاکستان سے محبت کا اظہار کیا اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ظہرانے پر مدعو کر کے بہت سوں کو حیران اور بہت سوں کو پریشان کردیا۔ پاکستان نے بھی امریکی صدر کے آئی لو یو کا جواب آئی لو یو ٹو سے دیا۔ ایسی صورتحال میں جب امریکہ براہ راست ایران کیخلاف جنگ میں کود گیا تو پاکستان اب کیا موقف اپنائے گا حکومتی ذریعوں کا اس بارے میں موقف واضح ہے۔ ایک بات تو وہ برملا طور پر کہتے ہیں پاکستان نے امریکہ یا اسرائیل کو ایران کے خلاف کسی بھی حملے کے لیے اپنی فضائی حدود، زمینی یا بحری جگہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی اور نا ہی دے گا۔
پاکستان نے اکیس بائیس جون کی رات ایرانی جوہری تنصیبات پر کیے گئے امریکی حملے کی مذمت کی ہے اور وزارت خارجہ نے اس حوالے سے واضح بیان بھی جاری کیا ہے۔ پاکستان نے مختلف بین الاقوامی فورمز پر ایران پر اسرائیلی حملوں کی بارہا اور انتہائی واضح اور دلیری کے ساتھ مذمت کی ہے اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایران کی مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کا اظہار کیا ہے۔پاکستان کسی دوسرے کی جنگ، کسی بلاک کی سیاست اور دوسرے ملک کے فوجی تنازعات میں حصہ نہیں لے گا اور نہ ہی اس کا حصہ بنے گا۔
پاکستان کا پہلے دن سے ایک اصولی موقف ہے۔ ایران کو اپنے دفاع کے تمام حقوق حاصل ہیں اور پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا.پاکستان نے ہمیشہ تمام متعلقہ فریقین اور سٹیک ہولڈرز کے ساتھ فعال روابط قائم کیے ہیں اور کرتا رہے گا تاکہ جلد از جلد جارحیت کا خاتمہ ممکن ہو اور باہمی بات چیت اور ڈائیلاگ سے امن کو موقع دیا جا سکے — ایسا امن جو پائیدار، باعزت اور باہمی طور پر قابل قبول شرائط پر مبنی ہو۔ اس کا مقصد کشیدگی میں اضافے اور اس کے نتیجے میں خطے میں عدم استحکام جیسے سنگین خطرات سے بچنا ہے۔
پاکستان کا ماننا ہے کہ ہر تنازعہ کا اختتام بالآخر بات چیت اور روابط کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے اور اس کے لیے یہ تمام فریقین کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ تاخیر کی بجائے بروقت کوئی پْر امن حل تلاش کریں۔
حالیہ جنگ میں بھارت کو شکست فاش دینے کے بعد دنیا میں پاکستان کو ایک اہم طاقت کا درجہ مل چکا ہے بالخصوص اسلامی دنیا کی نظریں پاکستان پر لگی ہیں۔ خطے کی اس حساس صورتحال میں پاکستان کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ اس جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ وہ کھڑا ہوگا تو امن کیساتھ اور امن کیلئے،یہی وہ واحد آپشن ہے جو پاکستان کیلئے آسانی پیدا کرے گا اور عالمی قوت کے طور پر دنیامیں اس کا وقار بھی بڑھائے گا۔
٭…٭…٭




