نظم

نوڈلز اور پتنگ / کامران اعوان

نوڈلزاور پتنگ

کامران اعوان

امّی کل لنچ میں مُجھ کو
نوڈلزدینا
کتنے دن ہوگئے ہیں
سینڈوچ کھاتے،اب نہ کھاؤں گا
بس کل تم لنچ میں مُجھ کو
نوڈلز دینا

امّی،بابا کو فون کرو نا
دفتر سے آتے ہوئے
سرخ کَلر کا گُڈّی کاغذ
لیتے آئیں

امّی،سنڈے کو
یاسر کی سالگرہ ہے
میں بھی جاؤں گا
اُس کے گھر کے سامنے والے
پارک میں ہم سب
کرکٹ بھی کھیلیں گے

امّی تم کتنی اچھی ہو
آج مزےسے میں نوڈلز کھاؤں گا
یاسر،عاطف، حمزہ، کاشف
سب کا مُنہ چڑاؤں گا
اچھا امّی، اللہ حافظ

امّی اب مُجھ کو نوڈلز نہ دینا
امی مجھ کو بھوک نہیں
امی! جب ننّھے جسموں کے
پرخچے اُڑ جائیں تو
نوڈلزاور انتڑیاں
سب کُچھ گُھل مِل جاتا ہے
گُڈّی کاغذ کا کیا کرنا
کاپی کا ہر صفحہ ہی
سُرخ پتنگ سا بن کر
اُڑ جاتا ہے
امّی اب مُجھ کو نوڈلز نہ دینا !!

Author

Related Articles

Back to top button