غزل
غزل | کل کائنات ہم نے اتاری ہے قبر میں | حارث بلال

غزل
کل کائنات ہم نے اتاری ہے قبر میں
اس کا بدن ہے، جان ہماری ہے قبر میں
اک موت پر کھلے ہیں زمانے کے سارے راز
تھوڑی سی دیر ہم نے گزاری ہے قبر میں
ضم ہوتے جا رہے ہیں لحد میں ذرا ذرا
ایسی کوئی ہماری دلاری ہے قبر میں
ماں بھی نہیں ہے پھر بھی دعائیں ہیں میرے ساتھ
یعنی کوئی تو سلسلہ جاری ہے قبر میں
کیا چند روز ہی ہیں ملاقات کے لیے؟
کیا اس کے بعد زندگی ساری ہے قبر میں؟
تم ایک دن تو آ کے میرے پاس بیٹھنا
حارث بس ایک رات ہی بھاری ہے قبر میں




