
مجھے شدید حیرت کا جھٹکا لگا۔ کم و بیش بیس سال بعد میں سلمان کو دیکھ رہا تھا۔ اور مجھے اسے پہنچاننے میں ذرا بھر دقت نہ ہوئی۔ اس کی وجہ کوئی میرا ہنر نہیں تھا بلکہ ان گزرے بیس سالوں میں اس کے چہرے مہرے میں سوائے عمر کی پختگی کے علاوہ کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ سلمان مجھے نہیں پہچان سکے گا۔ کیونکہ میں نوجوانی کے مقابلے میں کافی تبدیل ہوچکا تھا۔ دبلا پتلا دھان پان سا لڑکا اب نسبتاً فربہی جسم کا مالک تھا۔ چہرے پر داڑھی نے میرے حلیے کو مزید بدلا بدلا سا کردیا تھا۔
میری توقع کے عین مطابق سلمان کو جب میں نے اپنا تعارف کروایا تو اسے میری بات پر یقین کرنے کے لیے چند لمحے لگے. پہنچاننے کے بعد آہستہ آہستہ اس کے لہجے میں گرمجوشی بڑھ رہی تھی۔ ہم اس وقت طارق روڈ کی مصروف شاہراہ پر ایک معروف شاپنگ پلازہ میں کھڑے تھے۔ ہم دونوں پلازہ سے متصل ایک کیفے میں بیٹھ گئے ۔ کچھ پرانی یادوں کی زنبیل میں سے دلچسپ قصے بیان ہوئے۔ نمبروں کا تبادلہ ہوا ۔ ہم دونوں کوئی آدھا گھنٹا ساتھ رہے اور پھر دوبارہ ملنے کا وعدہ کرکے رخصت ہوگئے۔
سلمان اور میری یادِاللہ یونیورسٹی میں ہوئی جہاں ہم دونوں معاشیات میں ماسٹرز کررہے تھے۔ ہم دونوں بہت جلد ایک دوسرے کے قریب ہوگئے۔ ہماری طبعیتوں میں اگرچہ فرق تھا لیکن اس کے باوجود ہم ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے اور پڑھائی میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ میں سلمان کے مقابل پر خوش مزاج اور بذلہ سنج واقع ہوا تھا۔ جبکہ اس کی طبیعت میں چڑچڑاپن نمایاں رہتا۔ وہ زیادہ تر لوگوں سے خائف رہتا۔ وہ کسی کو جانے بغیر ہی اس کے بارے میں منفی رائے قائم کرلیتا تھا۔
شکل کے معاملے میں وہ مجھ سے زیادہ خوش شکل واقع ہوا تھا تاہم میری خوش مزاجی اور مذاق کرنے کی عادت مجھے یونیورسٹی میں نمایاں رکھتی۔ سائرہ بھی ڈیپارٹمنٹ میں ہمارے بیج میں شامل تھی۔ بےحد دلکش نقوش اور لمبے سنہرے بالوں نے اس کی شخصیت کو نہایت جاذب نظر بنا رکھا تھا۔ سنجیدہ مزاج اور پڑھنے کا شوق رکھتی تھی۔ سلمان بھی پڑھنے میں بہت اچھا تھا۔ میں اس کے ساتھ اس وجہ سے بھی رہتا تھا کہ اس کی پڑھنے کی عمدہ صلاحیت سے مجھے بھی بےحد فائدہ ہوتا۔ سائرہ کا رجحان بھی ہماری طرف اس لیے ہوا کہ وہ سلمان سے پڑھنے میں مدد لینا چاہتی تھی۔
سلمان کی طبیعت کو برداشت کرنا اتنا سہل نہ تھا۔ بعض اوقات اس کا چڑچڑا مزاج سائرہ کو لڑکی ہونے کا بھی استثنا نہ دیتا۔ ایسے موقع پر جب وہ خجالت محسوس کرتی تو میں آگے بڑھ کر اس معاملے کو سنبھالتا۔ کوئی شگوفہ کہ ڈالتا جس سے ماحول کی کدورت دور ہوجاتی اور چند لمحوں میں اس کی شرمندہ آنکھوں میں مسکراہٹ دوڑنے لگ جاتی۔ میری اس عادت نے سائرہ کے دل میں میرے لیے جگہ بنادی تھی۔ اور وہ خود تھی ہی اتنی پیاری کہ کوئی بھی اس کی محبت میں گرفتار ہونے سے بچ نہیں سکتا تھا۔
اب یہ عالم تھا کہ سلمان کی پڑھنے کی قابلیت اور فہم و فراست سے ہم دونوں مستفید ہوتے۔ اور اس کے بعد میں اور سائرہ ایک دوسرے کی محبت بھری آنکھوں سے محظوظ ہوتے۔ اگرچہ ہم دونوں نے ایک دوسرے سے اپنی پسندیدگی کا اظہار نہیں کیا تھا لیکن آنکھوں کی زبان سے ہم گویا اظہار محبت ہر روز کرتے۔ اس بات کو سمجھنے میں سلمان کو کچھ وقت لگا۔ لیکن جب اسے اندازہ ہوا کہ میں اور سائرہ ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے ہیں تو اس کا رویہ عجیب سا ہوگیا۔ وہ ہم دونوں سے کھچا کھچا سا رہنے لگا۔ یہ ماسٹرز کے پہلے سال کے فائنل سیمسٹر سے کچھ پہلے کی بات ہے جب اس نے ہم دونوں سے الگ رہنا شروع کردیا۔ یہ بات ہم دونوں کے لیے باعث تشویش تھی۔
میں نے اس معاملے پر جب سلمان سے بات کی تو اس نے صاف گوئی سے کہ دیا کہ میں تم دونوں کی لو اسٹوری دیکھنے نہیں آتا۔ میں پڑھنا چاہتا ہوں اور مجھے یہ جذباتی محبت کے افسانے زہر لگتے ہیں۔ اس کچی عمر کی محبتیں مٹی کے گھروندوں جیسی کمزور ہوتی ہیں۔ میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن اس نے سرد مہری سے منع کردیا۔ آخر کار ہم دونوں نے مل کر سلمان کو یقین دلایا کہ ایسا کچھ بھی نہیں۔ ہم سب ایک دوسرے کے دوست ہیں اور پڑھائی میں ایک دوسرے کی مدد کررہے ہیں۔
اس کے بعد ہمارا یہ گروپ فعال تو ہوگیا لیکن اس بات کی وضاحت نے میرے اور سائرہ کے درمیان خاموش محبت کی آگ کی شدت کو دھیرے دھیرے کم کردیا۔ یہاں تک کہ ماسٹرز مکمل کرنے کے بعد ہم سب ایک دوسرے کو الوداع بھی نہ کہ سکے۔ زندگی کی مصروفیت نے ماضی کی یادوں کو دھندلادیا۔ لیکن اس گزرے وقت کی سائرہ اور اس کے سنہرے بال میرے یاد سے کبھی محو نہ ہوئے۔ اس سے جدا ہونے کے بعد مجھے ہمیشہ اس بات کا رنج رہتا کہ کیوں نہ میں نے اس سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔
میں بہتر مستقبل کے سپنے دیکھتا رہا اور اس کی تعبیر پانے کی جستجو میں ایسا مصروف رہا کہ شادی کا خیال بھی نہ آیا۔ کبھی خیال پیدا بھی ہوا تو تو شدت سے دل میں سائرہ کو پانے کی آرزو پیدا ہوتی۔
سلمان سے گاہے بگاہے فون پر گپ شپ بھی لگتی اور ویک اینڈ پر ہم اکثر ملتے بھی۔ سلمان کے مزاج میں کافی تبدیلی آچکی تھی۔ معاشی حالات کی بہتری کا اثر تھا یا کوئی اور وجہ اس کا مزاج خاصہ خوشگوار ہوچکا تھا۔ اسے یہ جان کر بہت حیرت ہوئی کہ میں نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی۔ میں بھی اچھی نوکری کررہا تھا ۔ اس نے شادی نہ کرنے کی وجہ جاننا چاہی تو میں اسے ٹال دیتا۔ سلمان ایک خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہا تھا۔ اس کے تین بچے بھی تھے۔ میں اکثر اسے کہتا کہ کبھی بھابھی بچوں سے ملوائے تو وہ ادھر اُدھر کی بات کرنا شروع کر دیتا ۔
شروع میں مجھے یہ اپنا وہم لگا لیکن جب میرے پانچ سات مرتبہ کہنے کے باوجود سلمان نے کوئی مناسب جواب نہ دیا تو مجھے حیرت ہوئی ۔ ایک خیال آیا کہ شاید اس کا رجحان مذہبی خیالات کی جانب ہو تو اس وجہ سے یہ مجھے اپنی بیوی سے نہیں ملوانا چاہتا ہو۔ لیکن اس کے کلین شیو چہرے اور اس کی گفتگو سے ایسا کوئی تاثر بھی نہیں ابھرتا تھا۔ ہماری ملاقاتیں بڑھتی گئی اور بےتکلفی بڑھتی چلی گئی۔ تاہم ہماری یہ ملاقاتیں باہر تک ہی محدود تھی۔ نہ وہ میرے گھر کبھی آیا اور میں نے اگر اس کی فیملی سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا بھی تو اس نے اس پر کبھی کوئی گرمجوش ردعمل نہ دیا ۔
ایک دن ہفتہ وار چھٹی کے روز میں نے دراز سے پرانی البم نکالی تو اس میں یونیورسٹی کی چند تصاویر نکل آئیں ۔ ان میں ایک تصویر سائرہ کی بھی نکل آئی۔ اسے دیکھ کر میرے منہ سے اک آہ سے نکلی ۔ میں خودکلامی کے سے انداز میں بولنے لگا کہ کاش سلمان نے ہمیں پڑھانے سے منع نہ کیا ہوتا تو شاید ہماری محبت پروان چڑھ جاتی۔ یہ بات سوچتے سوچتے اچانک میرا ذہن میں ایک عجیب سا خیال آیا ۔ میں نے اس خیال کو جتنا نظر انداز کیا وہ اتنا ہی قوی ہوکر میرے ذہن پر سوار ہوگیا ۔ اس سوچ نے مجھے سخت بےچین کردیا۔ لیکن مسئلہ یہی تھا کہ میں اس خیال کی تصدیق کیسے کرسکتا تھا۔ اگلے آنے والے دنوں میں میری بےچینی آسمانوں کو چھورہی تھی۔ میں اس وقت کو کوس رہا تھا جب سلمان مجھے اچانک ملا۔
میں اپنے خیال کی تصدیق کے لیے اب منصوبہ بندی کرنے لگا۔ میں نے سلمان سے ایک مرتبہ پھر اس بات کی خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اپنی بیوی بچوں سے مجھے ملوائے۔ حسب سابق اس مرتبہ بھی اس نے اس بات کا کوئی خاص جواب نہ دیا ۔ اب مجھے یقین ہوچکا تھا کہ جو میں سوچ رہا ہوں وہ سو فیصد درست ہے۔ اس دن میں نے خاموشی سے سلمان کی گاڑی کا پیچھا کیا۔ اور اس کے گھر کی جگہ کا معلوم کیا۔ یہ ایک کثیرالمنزلہ عمارت تھی۔ اس بڑی بلڈنگ میں اس کا کون سا فلیٹ تھا یہ جاننا ناممکن تھا۔ تاہم میں نے کچھ دن اس بلڈنگ کے باہر ریکی کی کہ شاید وہ اپنی بیوی بچوں کے ساتھ گاڑی میں گھومنے پھرنے کی غرض سے نکلے ۔ تاہم میں اس میں بھی ناکام رہا۔
میں مسلسل اپنے منصوبے کی ناکامی پر جھنجھلا سا گیا تھا۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ میں اپنے خیال کی تصدیق کے منصوبے سے دستبردار ہونے کے لیے بھی تیار ہوگیا لیکن پھر اچانک میرے سینے میں آگ بھڑکتی اور میں ازسر نو کوششیں شروع کردیتا۔ آخر سوچ بچار سے میرے ذہن میں ایک منصوبہ آیا۔ میں نے سلمان کو فون کرکے بتایا کہ میں اس کی فیملی کی دعوت کرنا چاہتا ہوں ۔ اس کے لیے ہوٹل کا انتخاب وہ خود کرے۔ میری بات سن کر سلمان کے لہجے میں حیرت نمایاں ہونے لگی۔ اس نے استفسار کیا کہ کیوں؟
میں نے کہا کہ بس ایسے ہی دل میں خیال آیا کہ ہمیں دوبارہ ملے کوئی چھ ماہ ہونے کو آئے۔ لیکن اس دوران ایک مرتبہ بھی میری ملاقات بھابھی اور بچوں سے نہ ہوئی۔ اس بات پر سلمان نے کہا کہ اس میں میرا کیا قصور ۔ تم نے اب تک شادی ہی نہیں کی۔ اگر تمھاری فیملی بھی ہوتی تو ضرور ہمارا ایک دوسرے کے گھروں میں بھی آنا جانا شروع ہوجاتا ۔ میری بیوی اور بچے اکیلے تم سے مل کر کیا کریں گے۔ سو اس ملاقات کو اُس وقت تک کے لیے اٹھا رکھو جب تک کہ تم شادی نہیں کرلیتے۔ اس واضح جواب کے بعد اس کی فیملی سے ملنے کا جواز بظاہر ختم ہوگیا تاہم میرا یقین محکم تر ہوگیا کہ جو میں سوچ رہا ہوں وہ درست ہے۔
میں نے اس کے باوجود اپنی کوششیں جاری رکھی۔ اس کے نتیجے میں ایک اور مضبوط خیال میرے دل میں آیا۔ میں نے بینک سے گاڑی قرضے پر لینے کے لیے درخواست پر ریفرنس میں سلمان کا نام لکھا۔ اس کے لیے درخواست میں اس کے گھر کا پتہ لکھنا تھا۔ اس نے اپنے شناختی کارڈ کی کاپی دیتے ہوئے کہا کہ میں اس میں سے گھر کا پتہ نقل کرلوں۔ میں اپنی کامیابی پر بےحد مسرور تھا. میں نے سلمان کو بتادیا تھا کہ شاید بینک والے اس کے گھر پر بھی تصدیق کے لیے جائیں تو احتیاطاً اپنے گھر میں بھی بتادے۔۔۔
تین دن بعد میں دوپہر کو اس کثیر المنزلہ عمارت کے نیچے کھڑا تھا۔ مجھے سلمان کا گھر ڈھونڈنے میں کوئی تکلیف درپیش نہ آئی کیونکہ اس کے شناختی کارڈ پر اس کے فلیٹ کا نمبر اور بلاک درج تھا۔ میں نے استقبالیہ پر اپنا کارڈ جمع کروا کر لفٹ کے ذریعے سلمان کے فلیٹ پر پہنچا۔ میرا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ مجھ پر عجیب سی کیفیت طاری ہورہی تھی۔ میں نے اس کے فلیٹ کے دروازے پر کھڑے ہوکر اپنے بالوں کو درست کیا۔ مجھے یقین تھا کہ بیل پر آنے والی خاتون کو دیکھ کر مجھے اپنے ذہن میں آنے والے خیال کی تصدیق ہوجائے گی۔ میں نے دھڑکتے ہوئے دل سے کال بیل بجائی۔۔۔۔۔۔
اندر سے آواز آئی کون ؟
میں نے اپنا فرضی نام بتایا اور کہا کہ میں بینک سے آیا ہوں کیا یہ سلمان صاحب کا ہی گھر ہے۔ اندر سے آواز آئی جی فرمائیے ۔۔۔۔ میں ان کی مسز ہوں۔
جی بس میں نے ان کے گھر کی تصدیق کرنی تھی. آپ زرا کچھ صفحات پر دستخط کردیجیے۔۔۔۔
جی اچھا۔۔۔۔ دروازہ کھلا۔۔۔۔۔۔ میں نے اپنی آنکھوں کو دروازے سے نکلنے والی خاتون کے چہرے پر گاڑھ دیا ۔ وہ سر جھکائے کاغذ پر دستخط کررہی تھی اور میں باوجود کوشش کے اس کے چہرے میں سائرہ کو تلاش نہ کرسکا۔۔۔۔۔۔۔۔




