نظریہ پرستی اور انسان کی قومی تشکیل ؛ وجودی تناظر میں | وسیم رضا ماتریدی

نظریہ پرستی اور انسان کی قومی تشکیل ؛ وجودی تناظر میں
برصغیر کے فرنگی عہد میں قوم کے بارے میں دو سادہ کار بیانیے قوت کے ساتھ پھیلے۔ ایک یہ کہ قومیں نظریے کی بنیاد پر بنتی ہیں، دوسرا یہ کہ قومیں وطن یا زمین کی بنیاد پر تشکیل پاتی ہیں۔ دونوں بیانیوں میں ایک فوری سہولت ہے: انسان اور اجتماع کو ایک جملے میں تعریف مل جاتی ہے، اور تعریف کے ساتھ ایک قسم کا اطمینان بھی۔ مگر وجودی شناخت کی سطح پر یہی سہولت مہلک بن جاتی ہے، کیونکہ یہ پیچیدہ حقیقت کو ایک واحد علت میں سمیٹ کر اسے جوہر بنا دیتی ہے۔ پھر اسی جوہر کے نام پر انسان کی داخلی آزادی اور اس کی اخلاقی گہرائی مفقود ہونے لگتی ہے۔
قوم نہ خالص نظریہ ہے اور نہ ہی محض کسی زمینی ٹکڑے سے مشروط ہے ۔ نظریہ قوم کو حرکت اور ہیجان دے سکتا ہے مگر قوم کو پیدا نہیں کرتا، اور زمین قوم کو جگہ دے سکتی ہے مگر قوم کو معنی نہیں دیتی۔ قوم کی اصل ساخت اس کی اجتماعی زندگی سے نمو پاتی ہے: مشترک تجربات اور خوف، روزمرہ کے دکھ سکھ، معاش کی سختیاں، اداروں کی نرمی یا سنگ دلی، زبان و ثقافت کی تہہ دار یادداشتیں، اور سب سے بڑھ کر ایک دوسرے کے ساتھ برابر شریک ہونے کا اخلاقی عہد۔ قوم اگر واقعی کوئی حقیقت ہے تو وہ ایک وجودی حقیقت ہے۔ وہ محض تصور نہیں بلکہ ایک مسلسل تشکیل ہے۔ بنتی ہے، بگڑتی ہے، سنورتی ہے اور کبھی اپنے ہی تضادات میں ٹوٹ بھی جاتی ہے۔
قوم نظریے سے بنتی ہے کا بیانیہ دراصل قوم کو متن بنا دیتا ہے۔ چند عقائد، چند نعرے، چند مقدس جملے اور چند دشمنوں کی فہرست؛ اور پھر یہ گمان کہ یہی قوم کی بنیاد ہے۔ مگر اجتماعی زندگی محض متن نہیں بلکہ زندہ تجربہ ہے۔ نظریہ وفاداری پیدا کر سکتا ہے مگر سیاسی اخلاق اور امن کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مشترک مذہبی شناخت رکھنے والی ریاستیں بھی باہمی نزاع، جنگ اور طاقت کے تصادم میں جا سکتی ہیں، کیونکہ ریاستیں اکثر عقیدے کے اخلاقی مطالبے سے نہیں بلکہ ریاستی منطق، یعنی سرحد، اقتدار، سلامتی، داخلی سیاست اور مفاد سے چلتی ہیں۔
فروری 2026 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں پاکستانی فضائی حملوں، پھر سرحدی فائرنگ اور جوابی حملوں کی خبریں اسی تلخ حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ مشترک مذہب اپنے آپ میں مشترک قومیت نہیں بن جاتا اور نہ ہی وہ خود بخود مشترک سیاسی اخلاق پیدا کرتا ہے۔
مزید ہم بنگال کی علیحدگی، بلوچستان میں علیحدگی پسندی کا رجحان اور اب یہ افغانستان اور پاکستان کی کشمکش نے بڑی شدت سے اس نقطہ نظر کو واضح کر دیا ہے کہ قوموں کی تشکیل میں مذہب یا نظریہ بہت کمزور ستون ہیں۔
دوسری طرف قوم وطن یا زمین سے بنتی ہے کا بیانیہ قوم کو نقشے میں قید کر دیتا ہے۔ زمین دکھائی دیتی ہے، سرحد دکھائی دیتی ہے، اس لیے یہ بیانیہ بظاہر زیادہ حقیقی محسوس ہوتا ہے۔ مگر وجودی سطح پر زمین محض ظرف ہے، مظروف نہیں۔ ایک ہی زمین میں کئی زبانیں، کئی تاریخی یادداشتیں، کئی ثقافتی لہجے اور کئی قسم کی ہم آباد ہو سکتی ہیں، اور اکثر ہوتی ہیں۔ اگر زمین ہی قوم ہوتی تو ایک ہی خطے کے اندر شناختی تصادم، داخلی دراڑیں اور باہمی بداعتمادی اس شدت سے پیدا نہ ہوتیں۔ وطن اپنے آپ محبت پیدا نہیں کرتا؛ وطن میں انصاف پیدا ہو تو محبت، وابستگی اور وفاداری کی صورت بن سکتی ہے۔ زمین کو معنی دینے والا عنصر قانون کی برابری، اداروں کی دیانت اور ریاست کا شہری کو رعایا کے بجائے شریک سمجھنا ہے۔
یہاں وہ مقام سامنے آتا ہے جہاں جدید شہریت کی حقیقت قوم اور وطن کے دونوں سادہ کار بیانیوں پر وجودی تنقید بن کر کھڑی ہوتی ہے۔ شہریت کوئی جذباتی نسبت نہیں بلکہ ایک قانونی اور اخلاقی رشتہ ہے۔ یہ برابر کی شراکت ہے: وطن سے وابستگی میں، قانون کے سامنے مساوات میں، حق اور آزادی کے یکساں استحقاق میں اور ذمہ داری کے مشترک بوجھ میں۔ شہریت کا مفہوم یہ نہیں کہ سب ایک جیسے ہوں بلکہ یہ ہے کہ مختلف رہتے ہوئے بھی سب برابر ہوں، اور ریاست کسی شہری کو اس کے مذہب، مسلک، زبان، نسل یا خاندانی نسبت کی بنیاد پر کم تر یا مشروط شہری نہ بنائے۔ شہریت کا جوہر اعتراف ہے۔ ریاست شہری کو پورا انسان مانے، پورا شہری مانے، اور شہری ریاست کو صرف طاقت کا آلہ نہیں بلکہ حقوق و ذمہ داری کے معاہدے کی صورت میں سمجھے۔
اسی نقطے پر مذہبی ریاست کے تصور کی فکری دشواری شروع ہوتی ہے۔ جس تصورِ مسلمان پر مذہبی ریاست کھڑی کی جاتی ہے، وہ اُس تصورِ شہری سے مختلف ہے جس پر جدید شہری ریاست کھڑی ہوتی ہے۔ مذہبی ریاست عموماً فقہی و کلامی تعبیر کے تحت انسانوں کو درجوں میں بانٹ دیتی ہے۔ حقوق اور آزادی کے باب میں مساوات کمزور پڑتی ہے، اور قانون کی نظر میں انسان کے بجائے شناخت مقدم ہو جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قوم کو نہ نظریہ کے بت کی ضرورت ہے نہ وطن کے بت کی۔ نظریہ جب مطلق ہو جاتا ہے تو وہ اس چڑیل کا روپ دھار لیتا ہے جو انسان نگلتی ہے، اور جب وطن مطلق ہو جاتا ہے تو اس کی حالت بھی یہی ہوتی ہے۔ وجودی شناخت کی رو سے قوم کی اصل تعمیر وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں ریاست اور معاشرہ شہری کی حرمت کو غیر مشروط مانتے ہیں اور اداروں کے ذریعے اس حرمت کو احترام اور تقدیس فراہم کرتے ہیں۔ عدالت اگر کمزور ہو، پولیس اگر امتیاز کرے، تعلیم اگر طبقاتی ہو، روزگار اگر شناخت کی بنیاد پر ملے اور قانون اگر طاقتور کے سامنے جھک جائے تو نہ نظریہ قوم بچا سکتا ہے نہ وطن۔ اس صورت میں قوم ہجوم بن جاتی ہے، اور ہجوم کو کبھی نظریہ ایک طرف ہانک دیتا ہے، کبھی وطن پرستی، کبھی مذہب اور کبھی نفرت۔
قوم کا وجودی علاج یہ ہے کہ وطن کو صرف سرحد نہ سمجھا جائے بلکہ ایک ایسا مشترک گھر سمجھا جائے جس میں رہنے کی شرط ایک جیسا ہونا نہیں بلکہ برابر ہونا ہے۔ اور نظریے کو قوم کی بنیاد نہیں بلکہ فرد و معاشرے کے اخلاقی تزکیے اور معنی کے افق کا ایک ممکن محرک سمجھا جائے؛ ایسا محرک جو قانون کی برابری، انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے تابع رہے، ان کے اوپر سوار نہ ہو۔ جب شہریت برابر کی شراکت بن جائے تو وطن معنی پاتا ہے، اور جب وطن معنی پا جائے تو قوم ایک نعرہ نہیں رہتی بلکہ ایک ذمہ دار، عادل اور قابلِ اعتماد اجتماعی زندگی بن جاتی ہے۔




