غزل

غزل | اب ایسی حالتِ ابتر کا کیا علاج کروں؟ | نعیم احمد نیم

غزل

 

اب ایسی حالتِ ابتر کا کیا علاج کروں؟

سکونِ قلب میسر نہیں مجھے نہ جنوں

 

تلاش کرتا ہوں پردۂ رازِ ہستی میں

 کوئی دریچہ، حقیقت جہاں سے دیکھ سکوں

 

خدا کو عشق ہوا اور کائنات بنی

سوائے اس کے نہیں کچھ بھی رازِ کُن فیکوں

 

برا نہ مان یہ سچ ہے کہ اب دعاؤں میں

بجائے تیرے میں رزقِ حلال مانگتا ہوں

 

حضور میرے سخن کو بھی چار چاند لگیں 

حضور نظرِ کرم ہو کہ میں بھی نعت لکھوں

 

میں اک بشر ہوں کوئی پیڑ تو نہیں ہوں میاں

کہ پتھروں کے عوض بھی ثمر لُٹاتا رہوں

 

بھری ہیں حسرتیں دل میں نہیں ہے خالی جگہ

میں تیری یاد کا ملبہ بتا کہاں پہ رکھوں

 

تقاضا وصل کا اُن سے کِیا تو بولے نعیم

میں دانے دنکے کی خاطر قفس میں آن پھنسوں؟

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

1 Comment
Inline Feedbacks
View all comments
Shaukat Hussain
Shaukat Hussain
1 month ago

بہت خوبصورت غزل نعیم احمد نیم،
ہر شعر اعلیٰ

Related Articles

Back to top button
1
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x