اُردو ادباُردو شاعرینظم
خدا تو دیکھ رہا ہے / خالد ریاض خالد
خدا تو دیکھ رہا ہے
ہم نے دیکھا
اندر، باہر اور چار سو
اس کھنڈر میں
کچھ یادوں کی بوسیدہ گٹھڑیاں رکھی ہیں
سارا ماضی دیواروں سے لپٹا پڑا ہے
بیتے دنوں کے اجالے اندھیرے نگل گئے ہیں
مسہری پہ خشک پھول بکھرے
المیہ گیت گاتے ہیں
تنہائی کے جالے جابجا
کھنڈر میں، تصویر کہانی بنے ہیں
سارے خواب
لحد میں جا کر سو گئے ہیں
اپاہج تعبیروں کے ساتھ
کھنڈر رقص میں ہے
دکھوں کا بھاری بستہ
صبر کی کھونٹی پہ
اجر کی دیمک کھا گئ ہے
چند دن، سانسوں کے کھیل میں
کتنے بڑے قحط نے جنم لیا ہے
اب کوئی نہیں جھانکتا
کھنڈر میں




