اُردو ادباُردو شاعریغزل

غزل / تازہ ہوں، مجھ کو دیکھ لو اِس پل بنا ہُوا / یاور عظیم

غزل

 

 

تازہ ہوں، مجھ کو دیکھ لو اِس پل بنا ہُوا

میں رہ نہیں سکوں گا مسلسل، بنا ہُوا

 

سج دھج ہے میرے یار کی یوں سر سے پاؤں تک

جیسے ہو کوئی شعر مکمل بنا ہُوا 

 

ایسا کسی کے لمس نے مہکا دیا مجھے

اب تک مرا وجود ہے صندل بنا ہُوا

 

اہلِ نظر یہ دیکھ کے حیران رہ گئے 

ذرّہ ہے آفتاب سے افضل بنا ہُوا 

 

چالاک کس قدر ہے، کسی کو خبر نہیں

پھرتا ہے جان بوجھ کے پاگل بنا   ہُوا 

 

ڈرتا ہوں وہ فریقِ مخالف سے مل نہ جائے

جو آدمی ہے میرا موکّل بنا ہُوا

 

اِس بات پر میں شہر بَدَر کر دیا گیا 

میں نے کہا تھا شہر ہے جنگل بنا ہُوا

 

یاور عظیم! پاؤں زمیں پر جما کے رکھ

میدانِ شعر گوئی ہے دنگل بنا ہُوا

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Back to top button