
ارحم بھی تھے تو بڑے پیارے، گول مٹول صحت مند اور چست و چالاک_ ہر ایک کی آنکھ کا تارا_ جو اُن کی ساتھ کھیلتا اسے بھی خوب مزہ آتا_ معصوم چہرے پر دو چمکتی آنکھیں اور ذرا ذرا سی بات پر خوب ہنسنے والے_سارے بچوں میں اپنی الگ ہی شناخت رکھتے_ ان سے بڑے اسد بھائی تھے اور چھوٹی ارم_ تینوں بچوں میں بڑا ہی پیار تھا، یہ پیار بڑا اتحاد بنا دیتا پھر مجال ہے جو کوئی دوسرا بچہ اس تکوں میں شگاف ڈال سکے_
بچپن سے جوانی تک پہنچ گئے مگر ارحم بھائی کا حساب کتاب ختم نہیں ہوا_ جب اسکول میں تھی تو اس وقت چھوٹی گڑیا بالکونی میں کھڑی ارحم بھائی کے اسکول سے آنے کا انتظار کرتی تو وہ اپنی مٹھی میں ٹافیاں دبائے اس کے پاس آ کھڑے ہوتے ” بھیا کیا چیز لائے ہو، چلو ایک ٹافی تمہاری، ایک بھیا کی اور ایک میری اور یہ ایک کس کی ہے؟”
"امی کی_ چار لوگ چار ٹافیاں” وہ جلدی جلدی اپنی ٹافی ختم کر کے مچل جاتی_” بھیا ایک اور دو”
"نہیں گڑیا_ ٹافیاں حساب سے_ سب کی ایک ایک_”
جب کبھی ابّا جاں سب کو بازار لیکر جاتے_ اسد کا دل چاہتا سارے کھلونے سمیٹ لے مگر ارحم جانچ پرکھ کر ہر گاڑی کے اپنی عقل کے مطابق فائدے جانچ کر ایک چن لیتے_ امی لاکھ کہتیں بیٹا کوئی اور چیز بھی لے لو_
نہیں امّی بس ایک_ ۳ بھائی تو بڑے تھے مگر گڑیا کے وہ پیچھے پڑے رہتے_ ارم بس ایک گڑیا لو_ایک آدمی کی ایک گڑیا_ارم گڑبڑ نہ کرو_ لیکن اسد بھیا بھی تو لے رہے ہیں ارحم بھیا بھی_ ارم مچل جاتی_ نہیں وہ اپنی گول مٹول ہاتھ گھوماتے اور آنکھیں سر کے ساتھ دائیں بائیں گھوم جاتیں_ ارم دوسری گڑیا رکھ دیتی آخر ارحم بھائی نے ٹافی بھی تو لا کر دینی ہے_ ہر ایک کی ایک ٹافی حساب سے_
یہی حال ہر چیز کا تھا_ کپڑے ہیں تو حساب سے ، جوتے ہیں تو حساب سے _ کبھی کبھی تو امی گھبرا جاتیں کے اس کا کیا ہوگا_ اتنا حساب کتاب _ تب اسد ہنس کر کہتا کہ اچھا ہے آپکو بہو بھی ایک ہی لانی پڑیں پڑے گی حساب سے_ ایک دولہا _ ایک دلہن _ ہائے اسد بھائی آپ کیا چار لائیں گے _ اللّٰہ میری امی کا تو ناک میں دم ہوجائے گا پھر _ ہر بیگم چار بچے_ ارم چُپ کرو، کیا کیا بولتی جارہی ہو_ ہنستے ہنستے بھی اسے چُپ کروا دیتے_ پر ارحم پر کوئی اثر نہ ہوتا_ آج بھی اتنے کلاس فیلو ہونے کے باوجود دوست اُسکا ایک ہی تھا_ بھئی ذیادہ دوستوں کا کیا فائدہ_ کینٹین جاؤ تو لشکر ساتھ_ سب مطلب کے ہوتے ہیں _پھر ساری جیب خالی نقصان ہی نقصان _ اب حساب کتاب میں نفع نقصان بھی شامل ہوتا جارہا تھا دعاء کے لئے ہاتھ اٹھاتیں تو گھبرا جاتیں یا اللہ میرے بچے کوبے حساب دینا _”
آج شادی میں جانے کے لئے سب تیار ہورہے تھے تو ارحم نے صاف انکار کردیا_ امی شادی کے جانے کہ کیا فائدہ_ اتنا وقت برباد ہوتا ہےاور لفافے کی جیت الگ_ بیٹا تو کیا ہر چیز کا حساب کرتا رہتا ہے اللہ پھر بےحساب نہیں دیتا_ چھوڑ بیٹا یہ قِصّہ_ نہیں امی مجھے پڑھنا ہے_ کل جرنل بھی ٹیچر کو مکمّل کر کے دینا ہے _ بھئ وقت کی بھی کوئی قیمت ہے_ بحث بڑھنے کے ڈر سے ابّو نے امی کو اشارہ کیا اور بولے ” اچھا بیٹا تم اپنا جرنل مکمل کرو_ ٹھیک ہے_ چلو روبینہ ہر بار بحث نہ کیا کرو_” امی اب پریشان نظر آنے لگیں ” رشتےداروں کو کیا حساب کتاب بتاؤں گی _ ؟مگر ارحم مطمئن تھا 3 – 1/2 3 گھنٹے بچ رہے تھے اس کے پاس اور کیا چاہیے ؟ حساب کتاب صحیح جارہا تھا_
اسد کی جاب لگنے سے محبتوں کے گھر میں اور بھی خوشیاں آنے لگی تھیں، اب ارحم کی تعلیم بھی مکمل ہو گئی تھی اس نے حساب لگا لیا تھا کہ اس کی تعلیم پر کتنا خرچ ہوا تھا اب سب سے پہلے اسے وہ لوٹانا تھا اس سے پہلے اُسے شادی نہیں کرنی تھی_ اسد بھائی کی شادی سے امی ابّو کو کافی چین آگیا تھا اب گڑیا کا بھی تو سوچنا تھا، ابو ریٹائر ہونے والے تھے اور اس سے گھر میں کتنی کمی آنی تھی اس نے حساب کر لیا تھا _ لہٰذا اپنی جاب کے ساتھ اُس نے کاروبار کرنے کا سوچا_ مگر کیا کیا جائے_؟ حالات آج کل کچھ اچھے نہیں تھے بڑے بڑے بزنس مین پریشان تھے _ مگر پھر بھی اس نے حساب لگا لیا تھا_ اتفاق سے سامنے شمسی صاحب اپنی گاڑی بیچ رہے تھے_ اس کی پاس کچھ جمع پونجی تھی باقی اس نے اسد بھائی سے قرض لیکر گاڑی خریدنے کا سوچا_ شمسی صاحب کے دونوں بیٹے باہر تھے اور اب وہ اُنہیں بھی بلا رہے تھے_ شمسی صاحب کو گاڑی سے کوئی نفع نہیں کمانا تھا اس لیے وہ عام ریٹ سے کم پر ارحم کو مل گئی اب اسے اِس پر اچھا سا کلر کروا کر اتوار بازار لے جانا تھا_ کلر بہت اچھا ہوا تھا_ تھوڑی لائٹ وغیرہ چینج کروا کر گاڑی تو جیسے نئی ہوگئی تھی_ اس کے اچھے ریٹ لگ جانے تھے_ کتنے پیسے خرچ ہوئے تھے اور کتنے کی گاڑی بکنی تھی_ اس نے سب حساب لگا لیا تھا_ کل اتوار تھا اور اُسے گاڑی اتوار بازار لے جانے تھی، اسنے اسد بھائی کو ساتھ چلنے پر راضی کرلیا تھا ” بھئ میں صرف گاڑی میں بیٹھا رہونگا تم خود جو چاہو کرنا_ وہ اسکے حساب کتاب سے بہت تنگ تھے، پتہ نہیں وہاں جاکر کیا کریگا یہ ارحم_ وہی حساب کتاب_ میں تو بس اپنے حساب میں اُسے چائے پلا دونگا_ اللّٰہ اللّٰہ خیر سے اللّٰہ_ وہ دل ہی دل میں تنگ ہورہا تھا_
اتوار بازار میں ایک ہنگامہ تھا_ ارحم اِدھر سے اُدھر جارہا تھا بار بار وہ لوگوں کو گاڑی کی طرف لیکر آتا اور اسد جلدی جلدی لائٹس آن کرتا اور ہارن بجاتا_ ارحم پھر کسی اور طرف جاتا_ اللّٰہ یہ کہاں 11 لاکھ پر اٹکا ہوا ہے 8 میں ہم نے لی ہے اب قِصّہ تمام کرے 10 ایک صاحب آگئے تھے اسد کو اُمید بندھی کہ چلو 3 گھنٹے کی محنت وصولنے والی ہےمگر نہیں وہ ارحم تھا_ بھائی 11 لاکھ میں صحیح حساب ہوگا نا آخر ہم نے اتنے پیسے لگائے ہیں نئی کردی ہے گاڑی_ "مگر یار ارحم اب تو بہت دیر ہورہی ہے_” بھائی آپ کے لیے ایک اور چائے منگوائی ہے میں نے_ ارے پی لیں میرے حساب میں سے_ "یا اللہ_” کیا کریگا یہ لڑکا_ چائے کے ساتھ وائے بھی نہیں ہے، میرے پیٹ میں صرف چائے سے کیچڑ نہ ہوجائے.چائے کے ساتھ ارحم ایک پارٹی اور لے آیا_ یہ دو دوست تھے تو جوان بڑے شوق سے دیکھ رہا تھا اس کے دوست کو گاڑیوں کا تجربہ زیادہ تھا_” یار مراد! گاڑی زبردست ہے_ لیکن احسن میرے پاس 10 مشکل سے بنیں گے تم بات کرو_” ارحم اپنی بات پر اڑا ہوا تھا اور اسد ہارن بجا بجا کر لائٹس آن کر رہا تھا_ نہیں یار کیسے دے دوں 10 لاکھ میں اس طرح حساب نہیں بن رہا_ ” مراد اور احسن دونوں ارحم کو اپنی دلائل دے رہے تھے مگر اس کا حساب پھر حساب تھا_ لگتا تھا یہ سودا بھی ختم ہوجائے گا_ ایک طرف سے ایک بزرگ ایک لاٹھی کا سہارا لیکر چلتے ہوئے آئے اور مراد کے ساتھ کھڑے ہوگئے_ انہوں نے مراد اور ارحم کی گفتگو سنی_ مراد کا اصرار _ ارحم کا انکار_ بار بار ایک ہی تکرار_ انہوں نے ارحم کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اُسے راضی کرنے لگے_ ارحم نے نرمی سے کہا ” انکل میں نے سب حساب کتاب کر کے 11 لاکھ قیمت لگائی ہے ذرا بھی زیادہ نہیں آپ گاڑی تو دیکھیں_” بزرگ تھوڑا آگے کو جھکے ارحم کے قریب ہوکر دھیمے سے بولے ” بیٹا ہم بڑے مزے میں تھے_ کاروبار اچھا چل رہا تھا_ پھر بس ایسی مندی آئی کے دیں بھر دکان پر بیٹھے رہتے ہیں مگر گاہک ہی کوئی نہیں آتا_ زندگی صبح و شام ہوکر رہ گئی ہے_ کچھ دھندا ہوگا تو نفع نقصان ہوگا_ اب ایک اُمید بندھی ہے کے گاڑی خرید کر پک اینڈ ڈراپ کا کام شروع کرلیں_ دکان کا سامان بیچ کر آئے ہیں_ بیٹا تم کچھ گر کرسکو_کم” ” لیکن انکل میرے حساب میں یہ ممکن نہیں ہورہا”_ ” بیٹا حساب کتاب نہ کرو _ وہ اوپر والا تمہیں بے حساب دیگا_ میرے بچے_تم میرے مراد کا دل رکھ لو اب یہی ہماری اُمید ہے..
لیکن انکل!_ ارحم کی آواز بہت دھیمی ہوگئی” بیٹا حساب کتاب نہ کیا کر_ یا اللہ میرے بچے کو بے حساب دینا_” امی کی آواز صاف آرہی تھی_ اتنی صاف کہ اسد کے ہارن کی آواز بہت دھیمی ہوگئی تھی_ ہاں گاڑی کی چمکتی روشنی ارحم کے چہرے کو روشن کر رہی تھی_ "انکل ٹھیک ہے جیسی آپ کی مرضی_” انکل کی آنکھوں کی نمی گاڑی کی ہیڈ لائٹس میں صاف دکھائی دیکھی جاسکتی تھی _ مراد کی خوشی کی انتہا نا تھی_ خوشی سے احسن نے ہا ہو کا نعرہ لگایا_
ایک کی جگہ 10_ ارحم کا حساب بھی کم نہ رہا تھا_ اور امی کی دعاء بھی پوری ہوگئی تھی_ اسد نے شکر کا سانس لیا_ کوئی بات تو بن گئی_ ورنہ تو لگ رہا تھا آج کا دن یوم حساب نہ بن جائے_ ارحم کی سوچ جانے کہاں تک پہنچ رہی تھی_ ساری زندگی کا حساب یاد آرہا تھا_ ایک ٹافی_ ایک سوٹ _ ایک دوست_ اور ان ایک اللہ_ صرف ایک اللّٰہ کیلئے_ حساب پورا ہوگیا تھا_ بس جمع کی جگہ ضرب ہورہا تھا_




