
وہ بہت چھوٹی تھی جب اس نے کچی پنسل سے دیوار پر اپنا خواب پینٹ کیا تھا۔ اماں بابا نے جب دیکھا تو بابا چلائے: "ابھی کچھ دن پہلے ہی تو دیوار صاف کروائی تھی، تم نے پھر گندی کر دی۔ جاؤ حمیدہ سٹور سے برش اور پینٹ کی بالٹی اٹھا لاؤ۔”
وہ ڈر کر چند قدم پیچھے ہٹی تھی۔ وہ کانپتے ہوئے، دیوار صاف ہوتی دیکھتی رہی۔ اس کے خواب پر گرے رنگ کا کفن ڈالا جا رہا تھا۔
وقت سرکا، اس کی بنائی پینٹنگ گرے رنگ میں دب کر رہ گئی اور وہ بڑی ہو گئی۔
زندگی نے ماہنور کا ہاتھ تھاما اور تیز بہت تیز چلنے لگی۔
اکاؤنٹنٹ کی نوکری، بل، ذمہ داریاں۔ وہ زندگی کی اس دوڑ میں اتنا تیز بھاگی کہ واپس مڑنا یاد نہیں رہا،لیکن اس کے لاشعور میں کوئی چیز اس کو کسی چیز کے ہونے کا پتہ دیتی رہی۔ وہ واپس پلٹ کر دیکھتی تو مسکراتی اور پھر وہم سمجھ کر جھٹلا کر آگے بڑھنے لگتی۔ دن گزرتے گئے اس کی بے چینی بڑھتی چلی گئی۔
ایک دن اس نے تھکن سے نڈھال ہوکر بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائی اور آنکھیں موند لیں، اس کے ذہن پر کوئی نقش ابھرنے لگا۔ اس کے اردگرد کچھ منڈلانے لگا۔ اسے لگا وہ دائرے میں گھوم رہی ہے۔ ساتھ اس کے لاشعور میں کوئی تصویر ابھرتی اور مدھم پڑتی رہی۔ اس کے اردگرد سائے گہرے ہونے لگے۔ اب وہ تصویر واضح ہونے لگی۔ وہ اپنی کن پٹیوں کو سہلاتی رہی۔ دماغ پر بوجھ بڑھتا رہا۔ وہ چلانا چاہتی تھی لیکن چلا نہ سکی۔
ایک تصویر بلیک اینڈ وائٹ ورژن سے رنگوں میں بدلی۔ وہ اس تصویر میں ابھرتے رنگوں کو دیکھ کر مسکرائی اور اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اچانک وہ نیند سے بیدار ہو اٹھی تھی۔ کیسا خواب تھا یہ؟
وہ کافی دیر ان رنگوں میں کھوئی رہی۔ اپنے ہاتھوں کو دیکھتی رہی اور بیڈ کی پائنتی کی جانب والی دیوار کو اٹھ کر دیکھنے لگی۔ اسے گمان ہوا جیسے گرے دیوار پر کسی نے سرخ رنگ کی بالٹی انڈیل دی ہو۔
سرخ رنگ کے پیچھے سے خواب مسکرانا چاہتے تھے۔ ماہنور کو اپنے دماغ پر بوجھ محسوس ہوا۔ دیوار پر سرخ رنگ کی صورت بغاوت نے سر اٹھایا۔ اور دیوار پر سرخ رنگ میں ملبوس عورت کی شبیہ ابھری جس کے پیروں میں گھنگرو باندھے دکھائی دیے۔
افف میرے خدا! اس نے اپنے بھاری ہوتے سر کو دونوں ہاتھوں پر گرا لیا۔ وہ کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکی تھی۔ بس ایک ہی منظر دکھائی دے رہا تھا۔
وہ بستر سے اٹھی، آہستہ قدموں سے چلتی ہوئی اس دیوار تک پہنچی۔ دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی ٹھنڈی یخ دیوار پر رکھی۔ انگلی کی پور سے دماغ میں ابھرنے والے نقش کو دیوار پر اتارنے لگی، گویا وہ کوئی آرٹسٹ ہو۔ اس کی انگلی تیزی سے حرکت کرتی رہی۔ گرے دیوار پر وہ چہرہ بنایا جو اس کا آئیڈیل تھا: کشادہ پیشانی، گہری بھوری آنکھیں، اور سرخ لیکن خاموش لب۔
اس چہرے کے سامنے اس نے ایک دوسری عورت کو پینٹ کیا۔ سرخ لمبے گھیر دار فراک میں رقص کرتی عورت۔ رقص؟ وہ بڑبڑائی۔ نہیں، رقص نہیں… بغا۔۔وت۔ اس نے لفظوں کو توڑتے ہوئے ہلکی آواز میں کہا۔
اس کی انگلی دیوار کے زمین والے حصے کی طرف آئی اور اسے ایسا محسوس ہوا جیسے دیوار سے پلستر اکھڑ رہا ہو، جیسے سانپ کی کینچلی اترتی ہے ایسے،اس کو اس وقت وہ دیوار کم، موت کا فرشتہ زیادہ لگ رہی تھی۔اس کو سانس رکتی محسوس ہوئی،اس نے سیم زدہ دیوار پر ہاتھ رکھا اور سسکی، پھر ٹھنڈے ٹھار فرش پر بیٹھتی چلی گئی۔
شام ڈھل رہی تھی۔ اماں کمرے میں آئیں۔ "مانو کھانا کھاؤ گی؟” مانو کی سسکی سن کر اماں اس کے قریب جا بیٹھیں۔ "کیا ہوا تمہیں؟ طبیعت تو ٹھیک ہے؟”
ماہنور نے سر نہیں اٹھایا۔ بس انگلی سے دیوار کی طرف اشارہ کیا۔ اماں نے دیوار کو دیکھا لیکن وہاں کچھ نہیں تھا۔ صاف، شفاف، گرے دیوار۔
ماں نے پوچھا کیا ہے وہاں؟اس سوال پر ماہنور کے کاندھوں پر گزشتہ سالوں کا منوں بوجھ آن گرا تھا۔ اس کی آنکھیں سرخی میں بدل چکی تھیں، لیکن خالی نہیں تھیں۔
اس نے ماں کو دیکھا پھر گویا ہوئی
"اماں،” اس کی آواز میں صدیوں کی تھکن تھی، "یہ دیوار نہیں ہے۔ میرے خوابوں کی قبر ہے اماں۔” وہ ہچکیوں سے رونے لگی تھی۔
اماں سہم گئیں۔ "کیسی باتیں کر رہی ہو مانو؟”
"اتنے سالوں کی ریاضت ضائع گئی اماں! میں جس خواب کو بھولنے میں ہلکان ہو رہی تھی، وہ خواب آج خود بخود اس دیوار پر نقش ہو گیا اماں۔” اس نے دیوار پر ہاتھ پھیرا۔ "اماں، یہ دیوار میں نےخراب نہیں کی، یہ میرا لاشعور چیخا ہے۔”
ماں نے پتھرائی آنکھوں سے دیوار کو دیکھا،
کمرے میں مکمل سناٹا چھا گیا تھا۔ صرف پنکھے کی آواز تھی۔
مانو نے ماں کے جھریوں والے ہاتھ تھامے۔ "اماں، تم کہتی تھی نا لڑکیوں کے خواب نہیں ہوتے؟ لیکن اماں، لڑکیاں تو خوابوں سے ہی بنتی ہیں۔ اماں تم غلط کہتی تھی۔” اس نے برستی آنکھوں سے پوچھا: "بتاؤ اماں، تمہارا خواب کیا تھا؟”
اماں اس کے اچانک کیے گئے سوال پر ہڑبڑا گئیں تھیں۔
اس سوال پر گویا اماں کے لب سل گئے تھے۔
اماں کی آنکھیں نم ہوئیں،اور ایک ایک کرکے آنسو گالوں سے بہتے ہوئے دامن میں جذب ہونے لگے،ہونٹ آہستہ سے ہلے: "گانا… میں گانا چاہتی تھی۔ تیرے نانا نے منع کر دیا تھا کہ عزت دار گھرانوں کی بیٹیاں گاتی بجاتی نہیں ہیں۔”
ماہ نور یہ سن کر سکتے میں آگئی ماں اور بیٹی کی ایک ہی کہانی!
اب تک وہ دونوں قیدی تھیں،دیوار پر ٹنگے فریم کی قیدی۔
اسے لگا صاف دیوار پر آویزاں کیا گیا فریم اب اس کے قد سے چھوٹا ہو گیا تھا۔ آج اتنے سالوں بعد اس کے خواب نے اس کو رلا دیا تھا۔ ماہنور اپنے خوابوں کے ٹوٹ جانے پر خود بھی ٹوٹ گئی تھی۔ اس کا آرٹسٹ بننا "لوگ کیا کہیں گے” کی بازگشت میں کہیں کھو گیا تھا۔
دیوار پر ٹانگے فرضی فریم سے نکل کر وہ حقیقت کی دنیا میں قدم رکھنے کا عزم کر چکی تھی۔اسے فیصلہ کرنے میں ایک لمحہ لگا تھا۔
اگلے دو ہفتوں میں شہر کے ایک مشہور چوک میں ایک نئی گیلری کا افتتاح ہوا تھا، گیلری کے دروازے پر عجیب و غریب پینٹنگ آویزاں تھی جو بھی اس کے قریب سے گزرتا، رک کر دیکھتا ضرور تھا۔
پینٹنگ کے نیچے ایک لائن لکھی تھی: *”یہ صرف پینٹنگ نہیں ہے۔ بغاوت ہے۔ اور بغاوت بکتی ہے۔ کوئی ہے اس کا خریدار؟”*
لوگ آتے، ہنستے، اور چل دیتے تھے۔
اماں نے پہلی بار 60 سال کی عمر میں گیلری کے افتتاح پر گانا گایا تھا۔
فضا محو رقص تھی۔ ماہنور کی جیت اماں کے خواب کی تکمیل پر ہوئی تھی۔





تجزیہ بر افسانہ "جیت” ثمرین مسکین۔
تجزیہ نگار: رانا سرفراز احمد
افسانہ "جیت” دراصل ایک ایسی داخلی اور اجتماعی کشمکش کی کہانی ہے جس میں فرد کے دبا دیے گئے خواب، سماجی جبر، اور لاشعور کی بغاوت ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہو جاتے ہیں کہ قاری محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک پورا نفسیاتی و سماجی تجربہ محسوس کرتا ہے۔ کہانی کا آغاز ہی ایک نہایت علامتی منظر سے ہوتا ہے جہاں ایک معصوم بچی دیوار پر اپنے خواب کو کچی پنسل سے نقش کرتی ہے، مگر باپ کی جھڑکی اور دیوار پر چڑھایا گیا گرے رنگ اس خواب کو دفن کر دیتا ہے؛ یہی لمحہ دراصل اس کے باطن میں ایک دائمی خلا پیدا کر دیتا ہے جو وقت کے ساتھ دب تو جاتا ہے مگر ختم نہیں ہوتا۔ یہاں دیوار محض اینٹ اور پلستر کی ساخت نہیں رہتی بلکہ ایک ایسی علامت بن جاتی ہے جو سماجی پابندیوں، گھریلو جبر، اور تخلیقی اظہار کے قتل کی نمائندگی کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ ماہنور کا بڑا ہونا، عملی زندگی میں الجھ جانا، اور اپنے خواب کو بھلا دینا بظاہر ایک معمول کی زندگی کا تسلسل معلوم ہوتا ہے، لیکن مصنفہ نہایت مہارت سے اس کے لاشعور میں موجود بے چینی کو زندہ رکھتی ہیں، جو بار بار اسے کسی انجانی کمی کا احساس دلاتی ہے۔ یہی لاشعوری اضطراب کہانی کے وسط میں ایک شدید نفسیاتی تجربے کی صورت میں ابھرتا ہے، جہاں نیند اور بیداری کے بیچ کی کیفیت میں وہ اپنے دبے ہوئے فن اور شناخت سے دوبارہ جڑتی ہے؛ یہ منظر نہ صرف اس کے داخلی انتشار کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ انسانی تخلیقی قوت کو مکمل طور پر دبایا نہیں جا سکتا، وہ کسی نہ کسی صورت واپس ابھر آتی ہے۔
افسانے میں رنگوں کا استعمال خاص طور پر قابلِ غور ہے، جہاں گرے رنگ جمود، موت اور دباؤ کی علامت ہے، وہیں سرخ رنگ بغاوت، زندگی اور جذبے کی نمائندگی کرتا ہے؛ جب ماہنور کو دیوار پر سرخ رنگ ابھرتا محسوس ہوتا ہے تو دراصل یہ اس کے اندرونی انقلاب کا نقطۂ آغاز ہوتا ہے۔ سرخ لباس میں رقص کرتی عورت کی شبیہ، جسے وہ خود "رقص” نہیں بلکہ "بغاوت” قرار دیتی ہے، ایک نہایت طاقتور استعارہ ہے جو اس کے فنکارانہ وجود اور سماجی قیود کے خلاف اعلانِ جنگ کی علامت بن جاتا ہے۔ یہاں رقص محض جسمانی حرکت نہیں بلکہ ایک فکری اور وجودی آزادی کی علامت ہے، اور یہی آزادی اس کے لیے سب سے بڑی جیت کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ ماں کے کردار کی شمولیت کہانی کو ایک نئے زاویے سے وسعت دیتی ہے، جہاں ایک نسل کے دبے ہوئے خواب دوسری نسل میں منتقل ہوتے نظر آتے ہیں؛ جب اماں اپنے خواب یعنی گانا گانے کی خواہش کا اعتراف کرتی ہیں تو یہ لمحہ کہانی کو ذاتی سطح سے اٹھا کر اجتماعی المیے میں بدل دیتا ہے، جہاں ہر وہ عورت اپنی جھلک دیکھ سکتی ہے جس کے خواب "عزت” اور "روایات” کے نام پر قربان کر دیے گئے۔ ماں اور بیٹی کا یہ مکالمہ دراصل دو نسلوں کے درمیان ایک خاموش مگر گہرا ربط قائم کرتا ہے، اور یہی ربط کہانی کے اختتام کو ایک معنوی گہرائی عطا کرتا ہے۔
افسانے کا اختتام خاص طور پر قابلِ توجہ ہے جہاں ماہنور نہ صرف اپنے خواب کو دوبارہ زندہ کرتی ہے بلکہ اسے ایک عوامی سطح پر پیش بھی کرتی ہے، اور اس کی گیلری کا قیام اس بات کی علامت ہے کہ اس نے نہ صرف ذاتی بغاوت کی بلکہ اسے ایک سماجی اظہار میں بھی بدل دیا۔ پینٹنگ کے نیچے لکھی گئی سطر "یہ صرف پینٹنگ نہیں ہے، بغاوت ہے” دراصل پورے افسانے کا نچوڑ ہے، جو یہ واضح کرتی ہے کہ فن صرف جمالیاتی شے نہیں بلکہ ایک مزاحمتی عمل بھی ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، اماں کا ساٹھ سال کی عمر میں گانا گانا اس بات کی علامت ہے کہ خوابوں کی تکمیل کے لیے وقت کی کوئی قید نہیں ہوتی، اور یہ لمحہ کہانی کو ایک مثبت اور امید افزا انجام دیتا ہے جہاں جیت صرف ماہنور کی نہیں بلکہ اس کی ماں کی بھی ہے، بلکہ یوں کہا جائے تو یہ ان تمام عورتوں کی جیت ہے جنہوں نے کبھی اپنے خوابوں کو دفن کر دیا تھا۔ مجموعی طور پر یہ افسانہ نہ صرف ایک فرد کی نفسیاتی بحالی کی کہانی ہے بلکہ ایک سماجی تنقید بھی ہے جو یہ سوال اٹھاتا ہے کہ ہم اپنے گھروں اور معاشروں میں کتنے خوابوں کو دیواروں کے نیچے دفن کر دیتے ہیں، اور کیا واقعی ہم ان دیواروں کو ہمیشہ قائم رکھ سکتے ہیں، یا ایک دن وہ دیواریں خود بغاوت بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہو جاتی ہیں۔