بے حسی کے زندان میں | ہاشم بلال

بے حسی کے زندان میں
عجیب دن ہیں
جو بے حسی میں گزر رہے ہیں
درخت اپنی برہنگی کو چھپائیں کیسے
سمندروں پر کسی نے الزام دھر دیا ہے
کہ ساحلوں پر دھواں اڑاتا تمھارا پانی
کسی کے شفاف لمس کو لے اڑا ہے
جانے کہاں چلا ہے؟
عجیب دن ہیں
وہ مٹّھیوں کو یوں بھینچتا ہے
کہ تتلیوں کی لطیف بانہیں تڑخ رہی ہیں
کسے دِکھے گا؟
وہ بے حسی ہے، محال جینا بھی ہو گیا ہے
اگرچہ مرنے میں کیا رکھا ہے
مگر میں بارود میں گندھی بس بھری فضاؤں میں سانس لینے سے بیشتر
خود کو ریل آگے دھکیل دوں گا
یہ ریت کی جھولیاں کبھی تو
کسی کے دریا بدن پہ یونہی انڈیل دوں گا
وہ تیرگی ہے کہ اپنے ہاتھوں کی انگلیاں بھی اگر جلا دوں
تو میری پوروں سے لپٹی وحشت
مجھی پہ چڑھ دوڑے گی،
مگر میں
کسی کی آنکھوں میں کرچیاں بھر نہیں سکوں گا
غبار آلود شیلف کے میں کتابچوں میں پڑا
وہ بوسیدہ اور گِھسا مور پنکھ ہوں، جو
بغیر چھوئے پڑا رہوں گا
مگر کبھی مر نہیں سکوں گا۔۔۔۔۔۔۔!!!




