غزل
غزل | چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے | محمد مبشر
غزل
چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے
خواب انسان تھوڑی ہوتا ہے
نسل در نسل منتقل ہو کر
حسن ویران تھوڑی ہوتا ہے
شام سے رو رہا ہے اک سایہ
جسم زندان تھوڑی ہوتا ہے
اک نظر زندگی اگر دیکھو
اپنا نقصان تھوڑی ہوتا ہے
آستیں جھاڑ کر کہا میں نے
دوست انسان تھوڑی ہوتا ہے
Author
URL Copied




