غزل
غزل | کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا | زاہد خان

غزل
کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا
گزر رہا تھا جو دل پر خدا کے نام کیا
خزاں کی شاخ سے اترا لہو تو کرنوں نے
لُٹا کے رنگ اُسے اور سُرخ فام کیا
میں ایک حجرۂ درویش میں مقیّد تھا
مگر گزرتی ہوا نے یونہی سلام کیا
پھر ایک ڈھلتی ہوئی شب تمام رندوں نے
گئے دنوں کی تغافل کا احترام کیا
گزر گئے کئی طوفان خاکساروں پر
بکھرتے ذرّوں نے پھیلا کے خود کو شام کیا
قبول ہے تری راہوں میں خاک ہونا بھی
سو دل کا رستہ ترے نقشِ پا کے نام کیا
فلک نے احمریں چادر کو اوڑھ کر برسوں
زمیں کی نیلگوں آنکھوں میں خود کو رام کیا
کسی نے رات کی تاریکیوں سے گھبرا کر
دیا جلا کے خموشی کا انتظام کیا




