
سدرہ منظور حسین صاحبہ کا زیر نظر افسانہ “پرچھائیاں” ایک کافی گہرے نفسیاتی اور علامتی بیانیے کا درجہ رکھتا ہے اس میں فنکار کی شخصیت، اس کے اپنی شناخت کے متعلق گہرے احساس، وقت اور خود آگہی کی پیچیدہ گرہیں نہایت ہی عمدہ انداز اور فنی مہارت سے کھولی گئی ہیں۔ بظاہر تو یہ ایک باکمال مصورہ کی اندرونی و بیرونی تخلیقی کیفیت کی داستان نظر آتی ہے مگر درحقیقت مجموعی انسانی باطن کے اندرونی اضطراب، اس کی خود فریبی اور اس کی وجودی تنہائی کا مرقع ہے۔ افسانے کا آغاز مصورہ کی داخلی بے چینی کے اظہار سے ہوتا ہے جہاں وہ اپنی بند آنکھوں سے اندرونی اضطراب کے پریشان کن مناظر سے گھبرا کر آنکھیں کھولتی ہے اور پھر کھلی آنکھوں سے “حقیقی مناظر” دیکھنے کی کوشش کرتی ہے تا کہ اس اندرونی اضطراب سے نظریں چرا کر کچھ لمات سکون کے حاصل کر سکے، یوں افسانے کی ابتدا میں ہی واضح ہو جاتا ہے کہ اصل اضطرابی منظر بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہے اور اس کی الجھن کا مبداء داخلی ہے خارجی نہیں۔
افسانے میں کینوس اور آئینہ دو متوازی علامات بن کر سامنے آتے ہیں۔ کینوس خواہش، تخیل کی بلند پروازی اور پرسنل آئیڈیلزم کا استعارہ دکھائی دیتا ہے جبکہ اس کے برعکس آئینہ حقیقت، عمر کے ماہ و سال اور ناقابلِ تبدیل سچائی کی نمائندگی کرتا نظر آتا ہے۔ مصورہ ابتدا میں نہیں جانتی کہ اسے کیا پینٹ کرنا ہے مگر پھر اس کا لاشعور اس کی رہنمائی کرتا ہے اور جو چہرہ اس کے لاشعور کے کینوس پر ابھرتا ہے وہ دراصل اس کا اپنا ہی عکسِ ذات ثابت ہوتا ہے یوں “پرچھائیاں” ذات کی ان دبی پرتوں چھپی خواہشات اور آئینۂ ذات کا عکس بن جاتی ہیں جنہیں شعوری و حقیقی سطح پر تسلیم کرنا ذرا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ کھڑکی سے آتی ہوئی آوازیں، پردے کا سرکنا اور پھر کسی غیر مرئی موجودگی کا احساس ہونا دراصل اس کی داخلی خواہشات و عکسِ باطن کی بازگشت ہیں، مصورہ چاہتی ہے کہ کوئی اس کے فن اور حسن کے اوجِ کمال کی تعریف کرے اور جب کمرہ ایک ہجوم سے بھر کر پھر سے خالی ہو جاتا ہے تو یہ اس وقت یہ عارضی شہرت لیکن پھر در آنے والی دائمی تنہائی کا استعارہ بن جاتا ہے اور یہ احساس اسقدر حقیقی ہے کہ ہم معاشرے میں اکثر فنکاروں کا یہی دکھ اور درد محسوس کرتے اور دیکھتے ہیں۔ تاہم افسانے کا سب سے کربناک اور تکلیف دہ پہلو وقت کی سفاکی ہے کینوس پر بنا چہرہ تو اگرچہ بالکل جوان اور بہت دلکش ہے مگر آئینہ بجاۓ خود جھریوں اور بڑھتی عمر کی چغلی کھانے لگتا ہے، یوں مصورہ کی اندرونی و داخلی خواہش اور بیرونی و خارجی حقیقت کے درمیان تصادم ایک شدت اختیار کر لیتا ہے۔ مصورہ کا انگلی کے خون سے ہونٹ رنگنا محض ایک تخلیقی عمل نہیں بلکہ ایک گہری خود اذیتی علامت بھی ہے۔ جس میں خون فنکارانہ تخلیق کی قیمت، حسن کو جاودانی بنانے اور ہمیشگی عطا کرنے اور ہمیشہ قائم رکھنے کی بے تابانہ کوشش اور ساتھ ہی ساتھ داخلی اذیت کا اظہار بھی بن جاتا ہے۔ ایگزسٹینشئلسٹ پوائنٹ اوف ویو سے تو کردار خود کی یعنی اپنی ذات کے تہہ در تہہ گوشوں میں جھانکتے ہوۓ اپنی ہی تلاش میں ہے مگر جو اس کا "خود” یعنی کہہ لیں کہ عرفانِ ذات سامنے آتا ہے وہ اس کی آرزو سے کہیں مختلف ہے، اسی لیے خود کا انکشاف مصورہ کے اندر سکون کے بجائے خوف پیدا کر دیتا ہے۔ نفسیاتی تناظر میں دبی ہوئی خواہشات آوازوں کی صورت میں ابھرنے لگتی ہیں اور آئینہ مصورہ کی خوڈی کو حقیقت کی روشنی سے روشناس کراتا ہے۔
اب اگر نسوانی تنقیدی زاویے یعنی فیمینسٹ پوائنٹ اوف ویو سے دیکھا جاۓ تو یہ افسانہ اس بیرونی سماجی دباؤ کو بھی آشکار کرتا ہے جہاں عورت کی شخصی اور فنکارانہ شناخت کو محض عارضی اور فانی حسن سے وابستہ کر دیا جاتا ہے اور حسن کے ڈھلنے کے ساتھ۔اس کا وجود بھی متزلزل ہو جاتا ہے۔
علامت نگاری زیرِ بحث افسانے کی سب سے بڑی فنی قوت کے طور پر سامنے آتی ہے۔ آئینہ سچائی کا، کینوس خوابوں کی تصویر کشی کا، پردہ لاشعور پر پڑی پرتوں کا، خون اذیت و تکلیف کا اور فنکارہ کی تخلیقی قربانی کا جبکہ پرچھائیاں ذات کے منتشرشدہ اور پوشیدہ پہلوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اندر در آنے والی بے مہر سرد ہوا، سانسوں کی بھاپ اور سرکتے ہوۓ پردے جیسی جزئیات ماحول کو پراسرار بناتی ہیں اور افسانے کے اختتام پر آئینے کا ٹوٹ جانا، چیخ کا بلند ہونا اور پھر صراحی دار گردن کا ایک جانب ڈھلک جانا شناخت کے انہدام و شکستگی کی علامت بن کر سامنے آتا ہے۔
مجموعی طور پر اگر بات کریں تو افسانہ “پرچھائیاں” ایک ایسا افسانہ ہے جو کہ پڑھنے والے کو محض ایک کہانی ہی نہیں سناتا ہے بلکہ اس۔کو اپنے ہی ذات کے آئینے کے سامنے لا کر کھڑا کر دیتا ہے اور آخر پر یہ سوال چھوڑ جاتا ہے کہ آیا ہم وہ ہیں جو ہم تخلیق کرنا چاہتے ہیں یا وہ ہیں جو کہ سچائی ہمیں دکھا دیتی ہے۔۔۔




