غزل
غزل | یہ پیش لفظ ہے نادیدہ سیر گاہوں کا | شاہد ماکلی
غزل
یہ پیش لفظ ہے نادیدہ سیر گاہوں کا
غبار سُرمے سے بڑھ کر ہے جن کی راہوں کا
احاطہ اس کا، کوئی آنکھ کر نہیں سکتی
کیے ہوۓ ہے احاطہ وہ سب نگاہوں کا
اکائی ایسی نہیں ہے کہ فاصلہ ماپیں
سفر ہے لامتناہی، ہماری آہوں کا
تمام حلقۂ عالم بھی ہیچ لگتا ہے
وسیع اتنا ہے گھیرا کسی کی باہوں کا
عجب کدے میں جو دستِ بُریدہ رکھا ہے
طلسم باف تھا حیرت کی کارگاہوں کا
اسی لیے تو ہمارا یہ حال ہے شاہدؔ
کہ ہم نے مشورہ مانا تھا خیر خواہوں کا




