نظم

وقت نامے کے آخری صفحے پر لکھی نظم | ثمین بلوچ

وقت نامے کے آخری صفحے پر لکھی نظم

ان پہاڑوں کو دیکھو ذرا غور سے

یہ وہی ہیں جہاں

ایک ساحر نے لفظوں کی مالا جپی

 اور میں اس کی نظموں میں اتری

تو پھر کوہساروں کی جٹی بنی

ایک چشمے سے گاگر کو بھرتے ہوئے 

میرا یوں اس سے پہلا تعارف ہوا

 اس جواں سال ساحر کا دل تھم گیا

 

میں ہنسی اور ہنستے ہوئے

 وقت نامے کے صفحوں کو دوہرا کیا

اور وہیں جم گئی

 

عمر بڑھتی رہی 

اور ساحر مسافت میں جیتا رہا

اس نے نظمیں کہیں

اور نظموں میں میرے قصیدے کہے

اس کے بالوں میں گرتی ہوئی برف نے

بیتے قرنوں کا سارا فسانہ لکھا

 

دھوپ بجھنے لگی 

ذرد منظر ذرا اور گہرا ہوا

میں ہنسی

 اور ٹھہرے ہوئے وقت نامے میں جان آ گئی 

میں نے منتر پڑھے

کاغذوں کے پلندے میں الجھے ہوئے

 اپنے ساحر کو چشمے پہ حاضر کیا

میں نے ساحر کے ماتھے کی ریکھاؤں میں

اپنا کھویا ہوا اک زمانہ پڑھا

اس کے کشکولِ جاں میں جو نظمیں تھیں سب

ان کا عنوان اپنا ہی چہرہ پڑھا

 

پھر تفاوت مٹا

 قربتیں ہنس پڑیں

اس کے بالوں کی برف اب پگھلنے لگی

یوں محبت کی خوشبو میں مہکے بدن

ایک دوجے میں آخر کو ضم ہو گئے

نظم چلنے لگی

وقت کی قید سے نظم آزاد ہے 

ہم بھی آزاد ہیں

آؤ سجدے کریں

کہ محبت ہمارا مقدر بنی

ہم مقدس صحیفے کا حصہ بنے

اور امر ہوگئے!

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x