اُردو ادبافسانہ

چنگھاڑتی خاموشی / عارفین یوسف ، راولپنڈی

ہاں یہ یقیناً چنگھاڑ تی خاموشی تھی جس نے معین کو ہڑبڑانے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس خاموشی نے معین کے دماغ کو ایک زوردار مگر بے آواز دھماکے سے نشانہ بنایا۔ آنکھیں کھلتے ہی اس نے اپنے آپ کو مکمل سناٹے میں گھرا پایا جو اس قدر مہیب تھا کہ وہ چند ثانیے تو اپنی جگہ بالکل ساکت رہا۔آخر کار ہمت مجتمع کر کے اپنے کمرے کے باہر کی طرف لپکا اور گھر کا کونہ کونہ چھان مارا مگر اس کو اپنی اہلیہ حسینہ اور چار سالہ بیٹے احمر کا کہیں سراغ نہ ملا۔ اس نے پاگلوں کی طرح بار بار ہر کمرے، لان، چھت اور غسل خانوں میں جا جا کر دیکھا مگر بے سود۔ وہ دونوں گھر سے پراسرار طور پر غائب تھے۔اب صرف معین ہی اس بے آواز فضاء میں مارا مارا پھرنے والاواحد شخص رہ گیا تھا۔ اردگرد کے شور کے کسی قطرے کے بغیر وہ اپنے ہی گھر میں خود کو اجنبی محسوس کرنے لگا۔ ” یہ دونوں آخر گئے کہاں؟” اس کا ذہن ایک ہی سوال کی گردان کرتا چلا گیا۔

معین نے باورچی خانہ میں جا کر پانی کا نل کھول دیا جس میں سے پانی کی ایک تیز دھار پوری رفتار سے سنک پر گرنے لگی مگر اس میں سے آواز کی ایک بھی اکائی برآمد نہیں ہو رہی تھی۔ "کیا میں بہرا ہو گیا ہوں؟”معین نے گھبرا کر سوچا۔ اس نے ایک گہری سانس لی اور اپنی پوری قوت سے چیخ ماری۔ حیرت انگیز طور پر چیخ اس کے پھیپڑوں اور حلق کی خلیج پاٹتی ہوئی صاف محسوس ہوئی لیکن اس کے پورے کھلے منہ سے کوئی آواز نہ نکلی البتہ اس تمام جسمانی جدو جہد کے نتیجے میں اس کا جبڑا دکھنے اور جسم کانپنے لگ گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس کے جسم کے ہر ایک پور سے پسینے کی دھار پھوٹ پڑی ہے اور اس کی حالت موسلادھار بارش میں بھیگنے والے انسان کی طرح ہو گئی۔ وہ سر تا پا پسینے میں شرابور ہو گیا۔ خوف کی ایک لہر اس کے جسم میں سرایت کر گئی۔اس نے بمشکل خود کو گرنے سے بچایا اوراپنا وجود پاس پڑی کرسی پر ڈھا دیا۔ اپنے دماغ کو پرسکون کرنے کی ایک طویل کاوش کے بعد اس نے گذشتہ رات ہونے والے واقعات کے بارے میں سوچنا چاہا۔ وہ دفتر کے ایک بہت ضروری کام میں مشغول تھا جب احمر نے اپنی توتلی زبان میں اسے اپنے ساتھ کھیلنے کو کہا۔ "حسینہ! میں بہت ضروری کام کر رہا ہوں، احمر کو یہاں سے لے جاو”، اس نے حلق کے بل چیختے ہوئے بیگم کو آواز لگائی تھی۔ حسبِ معمول حسینہ بھاگتی ہوئی آئی اور جبلی طور پر احمر کو ایک بازو سے پکڑ کر اس کی معصومانہ مزاحمت کے باوجود تقریباً گھسیٹتی ہوئی کمرے سے آناً فاناً باہر نکل گئی۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ معین کو شور تو بالکل پسند نہیں تھا، اب یہ اور بات تھی کہ معین اکثر اوقات مناسب آوازوں کو بھی ہٹ دھرمی سے شور ہی گردانتا تھا۔خاندان میں ہونے والی تقریبات میں بھی معین کی عدم دلچسپی سے سب واقف تھے لہذا کسی کو بھی معین کی عدم شرکت نہ کھٹکتی تھی۔

حواس تھوڑے بحال ہوتے ہی معین مرکزی دروازے کی طرف دوڑا اور جلدی سے باہر سڑک پر جھانکا۔ایک پوش علاقے کی وسیع، صاف ستھری مگر کسی بے جان اژدہے کی طرح بل کھاتی ہوئی انٹا غفیل پڑی سڑک اس کا منہ چڑا رہی تھی۔ گاڑیاں اور انسان تو درکنار کسی چھوٹے سے چرند پرند کا نام و نشان تک نہ تھا۔ اب تو یہ خاموشی اس کی سماعت پر بم بن کر پھٹنے لگی۔ وہ سکوت کے اس ہولناک حملے کے لیے بالکل بھی تیار نہ تھا۔ اس کا ذہن چکرا کر رہ گیا۔

” کیا تم میز بجانا بند کرو گے!” معین کو اپنے ماتحت شمشیر کو گذشتہ دنوں میز پر انگلیاں بجانے کی وجہ سے پلائی گئی ڈانٹ یاد آ گئی۔اس بچارے نے گھبرا کر اپنا ہاتھ روک لیا اور کچھ کہے بغیر کی بورڈ پر جھک کر ٹائپ کرنے لگ گیا۔ دفتر میں ہر کوئی بخوبی جانتا تھا کہ بلاوجہ کی آوازوں سے معین کو کتنی چڑ ہے۔

معین مرکزی دروازے سے اچانک کمرے کے اندر کی طرف بے صبری کے ساتھ لپکا اور گاڑی کی چابیاں اٹھا کر گیراج کا رخ کیا۔اس کو احساس ہوا کہ گچھے میں موجود چابیاں آپس میں ٹکرا رہی تھیں مگرکوئی کنکھاہٹ سنائی نہیں رہی تھی۔ اس نے دانستہ چابیوں کو گھمایا مگر نتیجہ وہی۔۔۔۔ یوں لگ رہا تھا جیسے چابیاں ربر کی بن گئی ہیں کہ ٹکرانے کے باوجود آواز نہیں دے رہیں۔ گاڑی میں ایک اور حیرت معین کی منتظر تھی کہ وہ کوئی بھی آواز نکالے بغیر اسٹارٹ ہو گئی۔انجن کی ہلکی سی بے آواز تھرتھراہٹ اور میٹر کی ننھی روشنی اس بات کی متقاضی تھی کہ اگلا گیئر لگا کر گاڑی چلائی جائے۔گھر کادروازہ کھول کر معین گاڑی میں آبیٹھا۔ اس عمل میں بھی کوئی آواز سنائی نہ دی۔ اس نے ایکسلریٹر پر بھرپور دباو ڈال کردبے ہوئے کلچ کو چھوڑ دیا۔ گاڑی ایک زوردار جھٹکے سے آگے لپکی اور ٹائر چرچرانے کی بھی آواز نہ آئی۔ ہاں البتہ گاڑی کے یوں یک دم آگے جانے سے معین کو ایک زوردار جھٹکا لگا اور درد کی ایک ٹیس ریڑھ کی ہڈی سے نکل کر اس کی ٹانگوں تک جا پہنچی۔ اس ٹیس کی شدت ہر طرف چھائے ہولناک سناٹے کی شدت سے بہر حال کم تھی۔ خالی سڑکوں پر گاڑی دوڑاتے ہوئے معین چشم زدن میں دفتر جا پہنچا وگرنہ عام دنوں میں یہ رستہ پنتالیس منٹ کی بے حد محتاط ڈرائیونگ سے کٹتا تھا۔تمام راستے وہ اپنے آپ کو کوئی تماشائی سمجھتا رہا جو چپ سادھے، گنگ تصاویر کے سامنے سے گذرتا چلا جاتا ہے۔

دفتر کا مرکزی گیٹ چوپٹ کھلا تھا۔ معین نے گاڑی کو مناسب طریقے سے پارک کرنے اور اسے لاک کرنے کی تمام احتیاطیں بالائے طاق رکھ دیں اور دفتر کے اندر دندناتا چلا گیا۔ ایک ایک کمرے میں گھس کر دیدے پھاڑ پھاڑ کر دیکھا کہ شاید کوئی جیتا جاگتا وجود مل جائے مگر ندارد۔۔۔۔ وہاں موجود کمپیوٹر، پرنٹر، فوٹومشین غیرضیکہ ہر چیز جیسی گونگی ہو چکی تھی۔ وہ ایک کونے میں رکھی کرسی پر گر گیا۔ آنسو ٹپ ٹپ بہتے بہتے تیزی سے اس کی آنکھوں سے رواں ہونے لگے۔ آنسووں میں تو شدت آتی جا رہی تھی اور شاید وہ دھاڑیں مار کر رو رہا تھا کیونکہ کوئی آواز نہیں آ رہی تھی یا پھر اس کے کانوں تک پہنچ نہیں پا رہی تھی۔

” تم ایسے کیوں رو رہے ہو؟” اچانک ہی ڈھارس بندھاتی ایک مانوس آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔ "کیا۔۔۔۔کیا؟ کیا کہا؟؟؟ ذرا دوبارہ کہو!” معین نے اپنے بہتے آنسووں کے آگے بند باندھتے ہوئے گڑگڑا کر کہا۔ اس نے ایک لحظہ کے لیے اپنا سانس روک لیا اور ایک ایک لفظ اپنے اندر ایسے انڈیلنے لگا جیسے کوئی صحرامیں دربدر ہونے والاپیاسا اچانک مل جانے والے قلیل پانی کو آب حیات جان کر قطرہ قطرہ نوش کرتا ہے۔” خدا کے لیے بولتے رہو۔۔۔زور سے بولو۔۔۔میرے کان کے پاس آ کر بولو۔۔” وہ اب خوشامد پر اتر آیا تھا۔ "معین چپ ہو جاو”، یہ فکر مند آواز معین کو جادوئی معلوم ہو رہی تھی۔ وہ اسے بلا تعطل سماعت کرنا چاہ رہا تھا۔ آواز کے لیے ترسا ہوا معین ایک ایک لفظ کو ایک ایک گھونٹ کی طرح سینت سینت کر نوش جان کر رہا تھا۔ وہ بس ہمہ تن گوش تھا۔

اچانک موبائل میں لگا الارم پوری آواز کے ساتھ بج اٹھا۔ حسینہ نے سرعت کے ساتھ ہاتھ بڑھا کر اسے بند کرنا چاہا مگر یہ کیا؟ معین نے آنکھیں کھول کر اسی سرعت کے ساتھ اس کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا۔ الارم شور مچا تا رہا۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x