غزل
میں دھوپ اوڑھ کے کرتا ہوں سائبان تلاش/ راغب تحسین

غزل
راغب تحسین
کبھی عذاب طلب ہوں کبھی امان تلاش
میں دھوپ اوڑھ کے کرتا ہوں سائبان تلاش
خلا نورد سے مشکل ہے میرا کام کہ میں
زمیں کی گود میں کرتا ہوں آسمان تلاش
کہیں جگہ نہ ملی ہم کو سر چھپانے کی
گھروں کا شہر تھا کرتے رہے مکان تلاش
تلاش کیجیے لہجے میں وقت کا نوحہ
نہ کیجیے مرے اشعار میں زبان تلاش
دیا ہے آپ نے آوارگی کا نام تو کیا؟
رکھا ہے میں نے تو عنوان۔ داستان، تلاش
یہ کہہ رہا تھا مرا ہاتھ پڑھ کے دست شناس
فقط لکھا ہے لکیروں کے درمیان تلاش
وہ ایک روز تجھے بھی تلاش کر لے گا
جو کر رہا ہے مرے قتل کے نشان تلاش
کہاں کہاں نہ مرے نقش۔ پا گواہ بنے
کہاں کہاں نہ کیا تجھ کو میری جان تلاش




