گلاب رتوں کی آہٹیں / کنول بہزاد

مدیحہ کو کینیڈا میں رہتے برسوں بیت گئے تھے۔۔۔ وہ شادی کے چند سال بعد ہی یہاں آگئی تھی۔۔۔ پھر آہستہ اہستہ کینیڈا اس کا دوسرا وطن بن گیا ۔۔۔اللہ نے اسے پیارے سے دو بچوں ریحان اور سیمیں سے نوازا ،شوہر باسط بھی مزاج کا بہت اچھا تھا ۔۔۔جس نے اسے نئے ملک نئے شہر، نئے لوگوں میں ایڈجسٹ کرنے میں بہت مدد دی، زندگی ایک خوبصورت ڈگر پر رواں ہو گئی مگر یہ بھی سچ ہے کہ اسے وطن کی یاد ہمیشہ ستاتی رہتی۔۔۔ وہ سب پیارے رشتے جو پیچھے چھوڑ آئی تھی۔۔۔ ان کی یاد دل میں چٹکیاں لیتی ہی رہتی۔۔۔ شروع میں جب بچے چھوٹے تھے تو سال دو کے بعد چکر لگ جایا کرتا تھا ۔۔۔ مگر جوں جوں بچے بڑے ہوتے گئے ان کی مصروفیات اور ذمہ داریاں بڑھتی چلی گئیں ۔۔۔ تو کم کم ہی جا پاتی تھی۔۔۔ حتی کہ جب اس کے پیارے بابا شدید بیمار پڑ گئے تو وہ وہاں دیار غیر میں تڑپتی رہی لیکن جانے کی کوئی سبیل نہ بن سکی۔۔۔اور وہ برگد جیسی سایہ دار ہستی اس دارفانی سے کوچ کر گئی۔۔۔
اس کے بعد پھر خوشی اور غمی کے کئی مواقع یوں ہی گزر گئے۔۔۔ بچے شادی کے قابل ہوئے۔۔تو اس کے دل میں خواہش جاگی کہ میں اپنے بچوں کی شادیاں پاکستان میں کروں تاکہ ان کا وطن سے رشتہ جڑا رہے بچے بھی بھلے مانس تھے۔۔۔بیٹا بڑا تھا ۔۔۔اس نے اپنی جیون ساتھی کے بارے میں جو خاکہ تراش رکھا تھا ۔۔۔ماں کے گوش گزار کر دیا ۔۔۔ویسے وہ نہ بھی بتاتا تو بحیثیت ماں وہ جانتی تھی کہ اس کا بیٹا کیسی لڑکی کو اپنا جیون ساتھی بنانا پسند کرے گا۔۔۔سو وہ دل میں ہزاروں ارمان سجائے ۔۔۔پورے پانچ برس بعد لاہور کی سرزمین پر اتری۔۔۔جہاں اس کی بہن اور بھائی اپنے اپنے خاندان کے ساتھ اس کے منتظر تھے۔۔۔ امی ایئرپورٹ پر نہ اسکی تھیں کیونکہ ان کی طبیعت کچھ ناساز تھی۔۔۔
کتنے ہی دن تو عزیز رشتہ داروں سے ملنے ملانے میں گزر گئے ۔۔۔بہت سی نوجوان بچیوں سے بھی ملاقات ہوئی ۔۔۔جنہیں وہ لاشعوری طور پر پرکھتی رہی۔۔۔اسے تھوڑی مایوسی سی ہوئی۔۔۔اکثریت فیشن اور برینڈز کی دلدادہ تھی۔۔۔ایک بار کوئی کپڑا یا جوتا کسی تقریب پر پہن لیا تو دوبارہ پہننا شان کے خلاف تھا ۔۔۔نمود و نمائش کےعنصر نے پورے معاشرے کو لپیٹ میں لے رکھا تھا ۔۔۔جب کہ وہ جس معاشرے سے آئی تھی وہاں تو "love,preloved ” کا تصور جانے کب سے رائج تھا ۔۔۔وہ لوگ اچھی حالت میں موجود استعمال شدہ چیزوں کو ناصرف مخصوص دکانوں پر بیچ دیتے تھے اور وہیں سے خرید کر فخریہ پہنتے بھی تھے ۔۔۔ری سائیکلنگ پر بھی یقین رکھتے تھے ۔۔۔یوں اسراف جیسی چیز ان کے معاشرے میں نہ تھی۔۔۔
اسی دوران رمضان کا مہینہ شروع ہو گیا ۔۔۔مدیحہ ازحد خوش تھی کہ اس بار طویل مدت بعد وہ یہ بابرکت مہینہ اپنوں کے درمیان گزارے گی۔۔۔مگر جلد ہی اسے احساس ہوا کہ مہنگائی نے متوسط طبقے سے ساری خوشیاں چھین لی ہیں ۔۔۔بنیادی ضروریات ہی پہنچ سے دور ہو چکی تھیں ۔۔۔ایک روز اس نے یونہی اپنے چھوٹے اور اکلوتے بھائی کو اخراجات کا حساب کتاب کرتے دیکھا ۔۔۔اس کے سر کے بال سفید ہو چکے تھے ۔۔۔شوگر اور بلڈ پریشر اور روز مرہ کی ٹینشن نے مزاج کی نرمی چھین لی تھی ۔۔۔عید کے برانڈڈ جوڑوں کی فرمائشیں بیوی اور بچوں کی طرف سے جاری تھیں۔۔۔یہ سب دیکھ کر اسے بہت دکھ ہوا ۔۔۔البتہ اس نے دل میں ٹھان لیا کہ وہ اس بار بہن او بھائی کے بچوں کو ان کی پسند کی شاپنگ ضرور کروائے گی۔۔۔
پھر وہ کچھ دن کے لیے چھوٹی بہن فریحہ کے گھر رہنے چلی گئی ۔۔۔یہاں اسے قدرے سکون ملا ۔۔۔گھر میں سادگی کا عنصر غالب تھا ۔۔۔بہن نے اپنی دونوں بچیوں کی تربیت بھی عمدہ کی تھی ۔۔۔
اس دوران دونوں بہنیں دو تین جگہوں پر رشتہ دیکھنے گئیں ۔۔۔مگر ہر جگہ ان کی آمدنی ، کینیڈا میں گھر ،گاڑیوں کے بارے میں زیادہ تحقیقات کی گئیں ۔۔۔مدیحہ کے سادہ سے لباس کو بھی عجیب نظروں سے دیکھا گیا ۔۔۔مادی اشیاء کے لین دین کی بات کو اولیت دی گئی ۔۔۔
سو وہ بڑی مایوس سی ہوئی۔۔۔فریحہ اسے تسلیاں دیتی رہی کہ ضرور کوئی بہت اچھی لڑکی ہمارے ریحان کی قسمت میں لکھی ہے ۔۔۔بس ذرا دیر ہو رہی ہے ۔۔۔
اسی دوران انہیں اپنی خالہ کی وفات کی خبر ملی جو سرگودھا میں مقیم تھیں ۔۔۔امی جا نہ سکتی تھیں ۔۔۔سو دونوں بہنیں بھائی کے ساتھ سرگودھا روانہ ہوئیں ۔۔۔وہاں دوتین دن قیام رہا ۔۔۔اس دوران مدیحہ کی ملاقات اپنی پرانی سہیلی تہمینہ سے بھی ہوئی ۔۔۔جو رشتے میں ماموں زاد بھی تھی۔۔۔تہمینہ نے اصرار کیا کہ کچھ دن ہمارے پاس بھی رہو۔۔۔یہ اصرار اس قدر محبت بھرا تھا کہ وہ انکار نہ کر سکی۔۔۔فریحہ اور بھائی تو لاہور واپس چلے گئے اور مدیحہ وہاں رہ گئی۔۔۔لاہور کی نسبت یہاں لوگوں میں ابھی سادگی تھی اور پرانی اقدار کا پاس بھی۔۔۔گھر میں تہمینہ، اس کے شوہراوراس کے ساس، سسر ہی تھے۔۔۔بیٹا بیٹی دونوں زیر تعلیم تھے ۔۔۔سرمد آغا خان یونیورسٹی کراچی میں میڈیکل کے آخری سال میں تھا ۔۔۔بیٹی رائحہ ۔۔۔لاہور میں این سی اے میں پڑھ رہی تھی ۔۔۔
یہاں رمضان گزارتے ہوئے مدیحہ کو پرانے دن یاد آ جاتے۔۔۔دونوں سہیلیاں مل کر سحری اور افطاری بناتیں ۔۔۔تہمینہ کے شوہر بھی ہاتھ بٹاتے۔۔۔میاں بیوی میں بڑی ہم آہنگی تھی ۔۔۔سو زندگی آسودہ حال تھی ۔۔۔اسی دوران ویک اینڈ پر رائحہ گھر آگئی ۔۔۔وہ بھی بڑی سلجھی ہوئی لڑکی تھی ۔۔۔اس کے آنے سے گھر کا سارا ماحول سج سا گیا تھا ۔۔۔اب وہ سحری اور افطاری میں ماں اور مدیحہ کی مدد کرتی۔۔۔دادی دادا سے گپیں لگاتی۔۔۔ان کا خیال رکھتی۔۔۔ایک روز مدیحہ سے کہنے لگی۔۔۔
” خالہ۔۔۔آپ کے بال کتنے روکھے ہو رہے ہیں ۔۔۔لائیں آپ کے سر میں تیل ڈال دوں ۔۔۔”
"نہیں بیٹا! بالکل نہیں ۔۔۔تم یہاں آرام کرنے آئی ہو۔۔۔نا کہ میری خدمتیں کرنے ۔۔۔”
مدیحہ نے فوراً منع کیا ۔۔۔مگر وہ بصد اصرار اس کے سر میں مساج کرنے بیٹھ گئی ۔۔۔مدیحہ نے اس قدر سکون اور خوشی محسوس کی۔۔۔کہ بےساختہ رائحہ کے ہاتھ چوم لیے اور دعائیں بھی دیں۔۔۔
لاہور واپس آئی تو بیٹے کو رائحہ کے بارے میں بتایا ۔۔۔پھر تہمینہ سے فون پر بات کرکے ارادہ ظاہر کیا ۔۔۔تہمینہ نے کہا کہ ہم نے تو سب کچھ رائحہ پر چھوڑ رکھا ہے ۔۔۔وہ وہیں لاہور میں ہے ۔۔۔تم اس سے وہیں مل لو اور بات کرو۔۔۔پڑھی لکھی اور روشن خیال بچی ہے ۔۔۔ہمیں اس کے ہر فیصلے کا احترام ہوگا۔۔۔
مدیحہ نے اگلے دن رائحہ کو فریحہ کے گھر ڈنر پہ انوائیٹ کیا ۔۔۔فریحہ کو بھی بچی بہت اچھی لگی ۔۔۔پھر دونوں بہنوں نے اس سے بات کی۔۔۔اور ریحان کا فون نمبر اور تصاویر بھی دیں کہ آپس میں بات کر سکیں۔۔۔رائحہ نے بڑے رکھ رکھاؤ اور سلیقے سے جواب دیا کہ اسے کچھ وقت دیا جائے ۔۔۔
مدیحہ کا باقی رمضان اس حوالے سے خوب دعائیں کرتے گزرنے لگا ۔۔۔عید کے دوسرے ھفتے تو اس نے واپس چلے جانا تھا ۔۔۔ وہ اپنے رب کی طرف سے خوشخبری کی منتظر تھی ۔۔۔آخر عید سے محض دو روز قبل تہمینہ کا فون آ گیا کہ ہمیں یہ رشتہ منظور ہے۔۔۔مدیحہ کے تو پاؤں زمین پر نہ ٹکتے تھے۔۔۔وقت کم تھا ۔۔۔منگنی کی شاپنگ بھی کرنی تھی ۔۔۔سو اگلے دن شام کو ہی وہ رائحہ کے ہاسٹل پہنچ گئی ۔۔۔تاکہ اس کی پسند کی شاپنگ کروائی جا سکے۔۔۔مگر وہ رائحہ کی باتیں سن کر خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوگئی۔۔۔کہ وہ سادہ سا سوٹ پہنے گی جو دوبارہ استعمال ہو سکے اور جیولری کا تردد بھی نہ ہی کیا جائے ۔۔۔اس کے علاؤہ کسی الابلا کی ضرورت نہیں ۔۔۔
آج صبح عید تھی اور فریحہ کے گھر میں خوب چہل پہل تھی ۔۔۔اس کی بیٹیاں بھی اپنے ریحان بھائی کی منگنی کے لیے پرجوش تھیں ۔۔۔مدیحہ کے تو قدم ہی زمین پر نہ ٹکتے تھے۔۔۔دوپہر کو وہ بھائی بہن کی فیملی اور ماں کے سنگ سرگودھا کی جانب رواں دواں تھی۔۔۔جہاں ان کا بھرپور محبت اور خلوص سے استقبال ہوا ۔۔۔رائحہ سادہ سے روپ میں گلابی سوٹ پہنے جیسے زندگی میں در آنے والی گلاب رتوں کا استعارہ بنی بیٹھی تھی ۔۔۔منگنی کی رسم کے دوران ریحان ، سیمیں اور باسط سے وڈیو کال ملا لی گئی ۔۔مبارک سلامت کے شور میں جب رائحہ کو انگوٹھی پہنائی گئی تو جیسے ہر سو خوشیاں رقص کناں ہو گئیں ۔۔۔


