غزل
غزل | تجھ دید کی امید میں دہلیز کے آگے | وبھا جین خواب
غزل
تجھ دید کی امید میں دہلیز کے آگے
کاسہ لیے بیٹھے ہیں مرے نین ابھاگے
کمزور ہوئی جاتی ہے سانسوں کی یہ ڈوری
آ جا نہ بکھر جایں کہیں آس کے دھاگے
پھر رات چلی آئی کماں چاند کی لے کر
پھر یاد کے آہو مرے دل دشت میں بھاگے
وہ آگ لگاوے ہے کلیجے میں محبت
ہر آن موئی جان سلگتی ہوئی لاگے
نیند آئے گی ایسی کہ جگائے نہ جگیں گے
سو جائیں گے اک روز کئی رات کے جاگے
Author
URL Copied




