اُردو ادباُردو شاعرینظم

رفو گر نہیں ملتا / عالیہ مرزا

رفو گر نہیں ملتا

 

کہانی چلتی رہتی ہے 

فسانہ ختم نہیں ہوتا ،

زمانے کی گردش، کبھی جانے والوں کو 

واپس نہیں لاتی 

جدائی کی کوئی گتھی 

اگر اتفاقا سلجھ جائے 

تو اسے پھر سے الجھنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی 

 

صدیاں بیت جاتی ہیں 

صندوقوں میں پڑے خوابوں کو لگے پیوند 

ادھڑنے لگتے ہیں 

اور ڈھونڈے سے بھی کوئی رفو گر نہیں ملتا 

آدھا سفر گزر جائے 

تو تھکن سے چور بدن 

راستے کی دھول بن جاتے ہیں 

اور یادوں سے دامن چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے 

 

ماں نے کتنا سکھایا لیکن 

میں اون سلائیاں گنجل ڈال کے رکھ دیتی 

ماں اسے سلجھا کے ،

کتنی جلدی ایک سوئیٹر بن لیتی تھی 

اب جلتی بلتی آنکھیں 

ہر گنجل میں ماں کو ڈھونڈتی رہتی ہیں 

آدھا سفر گزر چکا ہے 

اور خوابوں کے ادھڑے پیوند کے لیے 

کوئی رفو گر نہیں ملتا ۔۔۔۔!

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Back to top button