
گزرتے ماہ و سال اپنی چھاپ چھوڑ جاتے ہیں۔ وقت تھم نہیں سکتا ۔ نہ ہی گزرے وقت کے تلخ لمحے ہم زندگی سے نکال سکتے ہیں۔
اے بیتے سال تم نے مجھے بہت آزمایا۔
کہیں کوئی رشتہ بنا ، کہیں کوئی بکھر گیا۔
سالوں کا تعلق بھی اجنبی محسوس ہونے لگا اور کہیں ایک مختصر تعلق روح سے جڑتا محسوس ہوا ۔
بکھرے رشتوں کو سمیٹتے سمییٹتے میرا وجود بکھر گیا ۔ مان ٹوٹ گیا۔
تم نے مجھے سکھایا کہ آج تک میں زندگی دوسروں کے لئے گزارتی آئی ہوں ۔
میں نے اپنے فیصلوں میں ہمیشہ دوسروں کی خوشی کو ترجیح دی۔ پھر چوٹ لگی تو سیکھا کہ خود کو مقدم رکھنا چاہئے تھا۔
لیکن یہ چوٹ کیوں لگی ، یہ سوال بھی سر ابھارتا ہے۔
اس سوال نے مجھے کٹہرے میں کھڑا کردیا۔
میرا ظرف مجھ پر ہنس رہا تھا۔ اگر بے لوث تھی تو پھر دوسروں کو ترجیح دینے پر پچھتاوا کیسا ۔
جہاں میں خود کو مظلوم سمجھ رہی تھی ۔وہی مجھے اپنا آپ ظالم محسوس ہونے لگا۔
بے لوث نہیں خود غرض ۔
اے بیتے سال تم نے مجھے ، مجھ سے ملوا دیا ۔
حقیقتاً میں خود سے نا آشنا تھی ، تم نے مجھے مجھ سے ملوا دیا ۔
کبھی کبھار زندگی کی تلخ حقیقت ہمیں شفاف آئینہ دکھا دیتی ہے۔
آگاہی اور معرفت کے در وا کردیتی ہے۔
تمہاراساتھ اب چھوٹ رہا ہے ۔ بہت کچھ سیکھا گئے ہو۔ نئے عہد کے ساتھ آگے بڑھنے کا جذبہ لئے میں بھی آگے بڑھنے لگی ہوں ۔
الوداع سال دو ہزار پچیس۔




