غزل

غزل /میرا ہونا تو کسی خواب زمانی تک ہے/ارشاد نیازی

غزل

ارشاد نیازی

میرا ہونا تو کسی خوابِ زمانی تک ہے

کیا یہ دنیا بھی من و تو کی کہانی تک ہے

 

تو رکے گا تو کہیں وقت بھی تھم جائے گا

دل کی دھڑکن ترے قدموں کی روانی تک ہے

 

اشک کے ساتھ کہیں میں بھی بکھر جاؤں گا

میرا کردار ان آنکھوں کی کہانی تک ہے

 

کیا خبر اس کو کہ یہ اور بھڑک سکتی ہے

وہ سمجھتا ہے مری پیاس یہ پانی تک ہے

 

پیش لفظ اس کا کفِ لالہ و گل ہے لیکن

آخرِ زیست تو اوراق خزانی تک ہے

 

یہ وہ شعلہ جو سحر خیز ہوا تیز ہوا

میں نے سمجھا تھا محبت بھی جوانی تک ہے

 

در و دیوار کی وحشت کا سبب ہوں ارشاد

شہر میں شور مری نقل مکانی تک ہے

Author

Related Articles

Back to top button