زخم نامہ / حمزہ ابن وصی

جب بھی وہ غیرمعمولی چوٹ کھاتا تو خراش زدہ کیفیت لیے آثار کا جائزہ لیتا۔ زخم اُس پر آشکار ہونے کے بعد ذہنی تبدیلیوں کا باعث بنتے۔ زخم عقد و ایمان کو تغیر بخشتے ۔ زخموں کا تازہ دم رہنا خود سے مکالماتی تشکیل کا سبب بنتا۔ اُسے محسوس ہوتا تھا جیسے:
زخم بھی سانس لیتے ہیں،
زخم بھی مسکراتے ہیں،
زخم روتے ہیں،
زخم جاگتے ہیں،
زخم سو بھی جاتے ہیں،
زخم آخرکار معدوم ہو جاتے ہیں،
مگر نشانات کی صورت اپنا انفرادی مقام رکھتے ہیں۔
زخم اُس سے تعلق قائم کچھ اس طرح کرتے کہ زخموں کے سوا اُسے کہیں اپنائیت محسوس نہیں ہوئی۔ مانا کہ زخم درد کا باعث رہے، مگر اس سے متعلقہ تھے۔ اِس تعلق کو اُس نے ہمیشہ استقلال و اشتداد فراہم کیا اور زخموں کو ہی اپنا مرکز بنا لیا۔ زخموں کے بھر جانے پر وہ شکر ادا کرتا کہ اُن کے نشانات اُس کے ساتھ رہ جاتے، یہ نشانات اُس کا دل بہلاتے۔ زخم سوکھ جاتے۔ زخم اگرچہ پھر بھی متعلقہ رہتے، مگر زخموں سے منسوب متحرکات فوت ہو جاتے۔
زخموں کے نشانات اُس کے باطن کے مستحضرات و مخفیات کے انعکاس کا نظم برقرار رکھتے۔ کبھی کبھی وہ ضربِ قدیم سے حاصل ہوئے زخموں کے نشانات کو واپس کرید کرید کر تازہ کر لیتا اور اُن لمحات میں داخل ہو جاتا جب یہ زخم اُس پر پھول کی مثال کھِلے تھے۔ وہ زخمی مناظر کا اعادہ کیے بغیر بے چین رہتا، مگر زخمی مناظر کو دوبارہ طاری کرنے پر اُسے حاصلاتِ کلفت سے وابست بھی رہنا پڑتا۔
زخموں کے باقی نشانات، زخموں کو دوبارہ کریدنے پر ماضی میں سفر کی ترکیب بن جاتے۔ لمحہ بہ لمحہ نئے زخموں کی پرورش کرنا اُس نے ہمیشہ خود پر لازم کیا۔ وہ نومولود زخموں، عمر رسیدہ زخموں کو اپنے بچوں کی طرح سنبھالتا اور اُن کو اپنے اسرہ میں شمار کرتا۔
آہستہ آہستہ وقت کے سفر کو تطبیق بخشتا وہ زندگی گزارتا رہا کہ اچانک اُس نے اپنے ایک زخم کو کسی دوسرے وجود پر نمو پاتے دیکھا۔ کسی دوسرے کے وجود پر خود سے منسوب زخم دیکھتے ہی اُس کے اندر جلن و رنج کا ایک سلسلہ آغاز پایا۔
افسوس، ایک بار پھر زخمِ قدیم میں سے ایک اور زخم اُسے کسی اور کے وجود پر بھی دکھائی دیا، یہ انشراح اُس کے لیے مثلِ صعوبت بنی، اور اصلاً انضباطِ زخم نے اُسے ایک نیا زخم ہبہ کیا۔ ایک زخم ہی تھے، نئے یا پرانے، جو اُس کی ملکیت تھے، وہ بھی کسی اور سے متعلقہ دیکھ کر اُس کی نیندیں اُڑ گئیں۔ اُس سے وابستہ بعض قدیم زخم اُسے دوسروں کے وجود پر نومولود شکل میں نظر آئے، اور بعض زخم جو اُس کے وجود پر نومولود شکل میں آشکار ہوئے، کسی اور کے وجود پر فوت شدہ حالت میں نظر آئے۔
فوقتاً اُس کے لبوں پر "یعنی” کا کلمہ جاری ہوا کہ:
زخم جگہ تبدیل کرتے ہیں،
زخم وقت کی قید میں نہیں رہتے،
زخم ماضی، حال، مستقبل سے خارج ہیں،
زخم ہجر و وصل میں مصروف رہتے ہیں۔
وہ سوچتا رہ گیا:
کیا زخم تشخیصی نہیں؟
کیا زخم انفرادی نہیں؟
کیا زخم بھی وفادار نہیں؟
کیا زخموں کا کوئی معیار نہیں؟
جو زخم اُسے ملے، فقط وہی اُن کے اسباب سے دوچار نہیں؟
اُسے احساس ہوا:
زخم تو تجدید کے قائل ہیں،
زخم ہر کسی کی جانب مائل ہیں،
زخم زندہ رہنے کی سعی کرتے ہیں،
زخم بطورِ جواب باصواب وجود بدلتے ہیں،
زخم سب کو اپنا حصہ شمار کرتے ہیں،
زخم کئی بار جنم لیتے ہیں،
زخم کے حاصلات وجودی استشہاد سے ثابت ہیں۔
افسوس،
وہ زخموں کو فقط اپنا مان بیٹھا تھا، سمجھا تھا جو درد اُس نے مختلف وقتوں میں محسوس کیے، اُن کو برداشت کرنا صرف اُس کا کمال ہے، تمام زخم الامر اُس پر آکر ختم ہیں۔ مگر ایسا ہرگز نہیں، زخم ٹھکانے بدلتے ہیں، زخم مقبوضہ بشر کی روداد ہیں۔
وہ سمجھا کہ اُس کے زخم خاص اُس کی نسبت نشوونما پاتے رہے۔ وقت کے ساتھ معلوم ہوا کہ جو زخم سوکھ گئے تھے، وہ فوت نہیں ہوئے تھے، زخم تغیرِ وجود کی مثل زندہ رہتے ہیں، زخموں کے نشانات و اثرات کا اجماع، تواتر سے رقم ہے، زخم ایک سے ہی ہوتے ہیں۔ یعنی زخم کسی کی ملکیت نہیں ہوتے۔
اُس نے تجرباتی طور پر اعتراف کیا،
زخم اپنی ذات میں شتاب ہیں،
زخموں میں موجود بیزاری کی صفات ہیں،
زخموں کا وقت سے کوئی واسطہ نہیں،
زخموں کا مرکز ایک وجود نہیں،
تمام وجود مقبوضات ہیں،
اور زخموں کے نشانات، آیاتِ حادثات ہیں۔
انسان بدلنا زخموں کا خاصا ہے،
یہی وجہ ہے زخم بھر جاتے ہیں،
اگر کوئی زخموں کو خود میں زندہ رکھنا چاہے، تو زخم آتش رنگی لیے ناسور بن جاتے ہیں۔
پھر اُس کے باطن میں شور صرف زخموں کی بے وفائی کا رہ گیا، اُس کا بیانیہ زخموں کے خمیر کی نشاندہی رہ گیا۔
بس وہ یہی اعادہ کرتا رہتا:
یہ زخم مکمل طور پر میرے ہو کر نہیں رہ پاتے۔
زخموں کے نشان انجماد کی صورت ہر وجود پر تصویر ہیں۔
سب کے ساتھ زخموں سے نسبت زدہ اعمال نامہ ہے،
اور یہ اعمال نامہ دراصل زخم نامہ ہے۔
وہ یہی بیان کرتا رہ گیا کہ،
ممکن ہے زخم میرے وجود پر نمو پاتے ہی ششدر و حیرانی سے ڈر جاتے ہیں۔
المیہ، الامر و الواقع، زخم متعلقہ نہیں رہ پاتے۔




