
اندرون لاہور کی ملتانی گلی میں لوگوں کی آمدورفت جاری ہے۔بھیڑ سے بھرے بازار سے ملحق پرپیچ اور بل کھاتی گلی کی چوڑائی فقط اتنی ہے کہ دو آدمی ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ راستے کے دونوں اطراف بوسیدہ دیواریں قدیم گھروں کا بوجھ سہارے اُڑے اُڑے رنگوں کے ساتھ یہاں کے مکینوں کی درماندگی کا چیخ چیخ کر اعلان کر رہی ہیں۔ان جگہوں پر دن کے اوقات میں بھی روشنی کا گزر کم ہی ہوتا ہے چنانچہ باہر بھرپور دھوپ کے باوجود ماحول ملگجا اور افسردہ رہتا ہے۔ گلی میں تھوڑا اندر کی طرف ایک حقہ خانہ ہے جس کے باہر لکڑی کی چند پرانی کرم خوردہ کرسیاں پڑی ہیں جو زیادہ وزن سہنے کی بالکل متحمل نہیں ہو سکتیں۔ حقہ خانہ کا موڑ مڑتے ہی سامنے والی طرف ایک ہوٹل نما سٹال ہے جہاں پکوان سے زیادہ پتی کی خوشبو گلی میں یوں رچ بس گئی ہے جیسے وہ اس فضا کا جزوِلاینفک ہو۔ اگلے موڑ سے پہلے دائیں طرف ایک چھوٹی سی مسجد ہے جس کی دیواروں اور فرش میں سنگِ مرمر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے نصب ہیں جو امتدادِ زمانہ کے ہاتھوں اپنی آب و تاب کھو چکے ہیں۔ مسجد کے مینار بہت بلند نہیں ہیں البتہ اُن پر معدوم ہوتے نقش و نگار ابھی بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ بیشتر گھروں کی کھڑکیاں گلی میں نیچے کی طرف کھلتی ہیں۔کسی بخیل انسان کے دل کی مانند تنگ گلی کے باوجود بچے کھیل کود میں مصروف ہیں اگرچہ راہگیروں کے آنے پر اُن کو بار بار اپنا کھیل روکنا پڑتا ہے۔کبھی کبھار کوئی موٹر سائیکل شور مچاتا لوگوں سے بچتا بچاتا گزرتا ہے تو گلی کے شور میں مزید کرختگی پیدا ہو جاتی ہے۔
آج گلی میں آنے والے افراد کی اکثریت کا رُخ ملک رئیس کے اُس عشرت کدے کی طرف ہے جو پچھلے پچاس برس سے اہل خانہ کو پناہ دیتے دیتے شکست و ریخت کا شکارہو گیا ہے۔ گھر کا پلستر جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا ہے جس کے باعث پرانی اینٹیں یوں جھانک رہی ہیں جیسے پڑوسی نیچی دیوار کا فائدہ اٹھا کر ساتھ والے گھر میں ایڑیاں اُچک اُچک کر جھانکتے ہیں۔ مرکزی دروازہ بھاری لکڑی کا ہے جو دیکھنے سے ہی اپنی خستہ حالی کا پتا دے رہی ہے۔ دروازے کے عین وسط میں دوٹوٹے ہوئے لوہے کے ہینڈل یوں لگے ہیں گویا ہاتھ لگانے سے ہی اکھڑ جائیں گے۔ کسی غریب کی مختصر کمائی جیسی قلیل سی ڈیوڑھی کے ساتھ ایک درمیانے حجم کا ہال نما کمرہ ہے جس کے اندر کچھ اور ہی دنیا آبادہے۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی دائیں طرف پانچ سٹول پڑے ہیں جن پر گوٹا کناری، دبکا، بھاری اور ہلکے کام، دلکش کڑھائی والے نئے نویلے ملبوسات سیلوفن میں لپٹے آنے والوں کو دعوتِ نظارہ دے رہے ہیں ان کے ساتھ ہی دیوارگیر پر ہینگروں میں لٹکے متفرق سلے ہوئے نئے سوٹ دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔ ہینگروں کے نیچے مختلف طرح کی نئی جوتیوں کے دس جوڑے ایک ترتیب سے رکھے ہوئے ہیں جن میں اونچی ایڑی، دیدہ زیب فینسی رنگوں اور گھر کے عام مگر آرام دہ جوتوں کے جوڑے شامل ہیں۔ کپڑوں اور جوتوں پر افشاں بکھیری گئی ہے جس سے ان کی جھلملاہٹ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔اِن کے ساتھ ہی میک اپ کی اشیاء پر مشتمل بیوٹی بکس کو کھول کر آئی لائنرز، فیس پاوڈر، لپ اسٹکس، رنگ برنگی نیل پالشوں کی بوتلیں، مسکارہ اور دیگر متعلقہ چیزوں کے ساتھ مختلف طرح کے پرفیومز کی مہکتی بوتلیں رکھی ہوئی ہیں۔
اس چھب دکھاتی قطار کے بالکل سامنے فرنیچر رکھا گیا ہے جس سے تازہ پالش کی تیز بُو آنے والوں کا استقبال کر رہی ہے۔ آبنوسی مسہری، صوفہ سیٹ، سنگار میز، کھانا کھانے کی میز، دو عدد بھاری بھرکم الماریاں اور چند چمچماتی کرسیاں بڑے تفاخر سے مہانوں سے داد وصول کر رہی ہیں۔دوسری جانب ملبوسات اور جوتوں کی قطار ختم ہوتے ہی خود کار برقی آلات اور الیکٹرونکس اشیاء کو اُن کی پیکنگ سے نکال کر انہی کے ڈبوں پر رکھ دیا گیا ہے۔نازک اندام استری، مختلف النوع پھلوں کا رس نکالنے والی جوسر مشین، پیڈل والی جدید سلائی مشین، کپڑے دھونے والی مکمل خود کار مشین، کم توانائی سے چلنے والا روم کولر، شفاف آئینے جیسی سطح والا قدِ آدم ریفریجریٹر اورتمام فیچرز سے لیس بیالیس انچ کی ایل سی ڈی یوں رکھے گئے ہیں جیسے کسی شوروم میں سجے ہوں۔ ان اشیاء کے بالمقابل باورچی خانہ کے لوازمات کی ایک ترتیب لگی ہوئی ہے جس میں سٹین لیس سٹیل کے چھری کانٹوں چمچوں اور پلیٹوں سے لے کر بیش قیمت ڈنر سیٹس اور مائیکرو ویو اوون تک موجود ہیں۔کمرے کے اختتام سے تھوڑا سا پہلے ایک کونے میں پلاسٹک چڑھی زیرو میٹر موٹر سائیکل نوبیاہتا دلہن کی طرح سر جھکائے کھڑی ہے۔
اس چکاچوند کے بیچوں بیچ راستہ بنا کر گذ رنے والے مردوزن کی چہ میگوئیاں مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح ادھوری کانوں میں پڑ رہی ہیں۔۔۔ رخصتی۔۔۔۔۔۔ باپ قرض۔۔۔۔ ماں کے گہنے۔۔۔۔اکلوتی بچی۔۔۔۔دبی دبی آوازیں ایک دوسرے کے اوپر چڑھ رہی ہیں۔ آنے والے کمرے سے باہر نکل کر ایک کشادہ صحن میں جا رہے ہیں جہاں ایک ہجوم اکٹھا ہو گیا ہے۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد چھتوں کی فصیلوں کے چاروں طرف کھڑی اس انہماک سے نیچے کا نظارہ کر رہی ہے کہ ان کو دھکم پیل کی بھی پرواہ نہیں ہے۔اچانک ہی ملک رئیس کی گلوگیر آواز بلند ہوئی ” اب اجازت دو، وقت ہو گیا ہے”۔
جواب میں ملک رئیس کی سماعت سے اپنی اہلیہ کا جگر پھاڑ دینے والا بین ٹکرایا، "اِس گھر سے فائزہ کی ڈولی اٹھنی ہے جنازہ کیوں اٹھا رہے ہو؟”





ما شاء اللہ، بہترین ، طبیعت ہری ہو گئ۔ بہت عرصہ ہوا ایسی دل ا فروز تحریر پڑھے ہوئ۔
تجزیہ بر افسانہ "چڑیاں دا چمبا” محترم جناب عارفین یوسف صاحب
از رانا سرفراز احمد
عارفین یوسف صاحب کے افسانے “چڑیاں دا چمبا” کو اگر نسوانی تنقیدی نقطۂ نظر اور معاشرے میں پھیلی ہوئی جہیز کی لعنت کے سماجی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ افسانہ محض ایک جذباتی رخصتی کا منظر نہیں بلکہ مشرق کے مردانہ معاشرتی ساخت کے اندر عورت کی حیثیت کا ایک گہرا نوحہ بن کر سامنے آتا ہے۔ عنوان اگرچہ بظاہر پنجابی ثقافت کے اس عمومی و معروف استعارے سے ماخوذ ہے جس میں کہ بیٹی کو چڑیا کہا جاتا ہے جو کہ ایک دن اپنے گھونسلے سے اڑ جاتی ہے، تاہم افسانہ اس رومانوی تصور کو حقائق کے بے رحم کلہاڑے کے وار کر کر کے تہس نہس کر دیتا ہے۔ یہاں اڑان ایک آزادی نہیں بلکہ ایک جبر ہے، اور رخصتی فطری عمل نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں پاۓ جانے والے روایتی معاشی اور سماجی دباؤ کا نتیجہ نظر آتا ہے۔
منظر نگاری بیت کمال کی ہے، اندرونِ لاہور کی تنگ اور بوسیدہ اور نیم تاریک سی گلی دراصل اسی فرسودہ سماجی نظام کی علامت نظر آتی ہے جس میں کہ عورت کی زندگی محدود۔اور مقررہ اور فرسودہ راستوں میں مقید رہتی ہے۔ گلی۔کے ماحول کی گھٹن، دیواروں پر موجود ہمیشہ کی نمی اور خستگی اور روشنی کی کمی اس ذہنی اندھیرے اور معاشرتی اور شعوری ہسماندگی کی تاریکی کی نمائندگی کرتی ہے جس میں بیٹی کو شروع سے لے کر پروان چڑھایا جاتا ہے۔ جہیز سے سجے سجاۓ کمرے کی طویل اور باریک بینی سے کی گئی منظرنگاری اس افسانے کا نہ صرف فنی کمال ہے بلکہ تنقیدی نکتہ بھی ہے۔ کپڑوں، جوتوں، میک اپ، فرنیچر، برقی آلات اور حتیٰ کہ موٹر سائیکل تک کی نمائش شادی کے موقع پر اس طرح کی گئی ہے گویا یہ کسی شوروم میں اشیاء فروخت کے لیے رکھی گئی ہوں۔ یہ منظر نہ صرف لڑکی کی شخصیت کو پس منظر میں دھکیل دیتا ہے بلکہ اس کی جگہ اشیاء کو بھی مرکزی اہمیت دے دیتا ہے، یوں عورت بجاۓ خود ایک شے میں تبدیل ہو جاتی ہے ایک ایسی شے جس کی قدر و قیمت جہیز کی مقدار اور معیار کے ساتھ موازنے سے متعین کی جاتی ہے۔ دبی دبی آوازوں میں “قرض”، “ماں کے گہنے” اور “اکلوتی بچی” جیسے دہراۓ جانے والے الفاظ اس چمک دمک اور نمود و نمائش کے پیچھے چھپی معاشی تباہی کو بے نقاب کرتے نظر آتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ یہ ظاہری نظر آنے والی شان دراصل ایک متوسط گھرانے یا نچلے طبقے کے خاندان کی افسوسناک معاشی خودکشی ہے۔ نسوانی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہاں پر عورت کی زندگی کا نہایت اہم مرحلہ اس کی اپنی خواہشات یا اس کی اپنی شناخت کے بجائے اس کے خاندان کی عزت اور سماجی توقعات کے تابع ہوتا نظر آتا ہے۔ ملک رئیس کی گلوگیر آواز ہمارے معاشرے کے مرد کی اس مجبوری کی نمائندگی کرتی نظر آتی ہے جو کہ سماج کے بنائے ہوئے اصولوں کے سامنے شکست خوردہ و سرنگوں ہے، مگر افسانے کا اصل اخلاقی اور جذباتی مرکز ماں کی وہ چیخ ہے جو کہتی ہے کہ “ڈولی اٹھنی ہے جنازہ کیوں اٹھا رہے ہو؟” یہ جملہ پورے کے پورے بے حس اور رسوم و رواج کے مارے ہوۓ نظام پر فردِ جرم عائد کرتا نظر آتا ہے کیونکہ ماں کو اپنی عزیز از بیٹی کی رخصتی زندگی کی شروعات نہیں بلکہ ایک طرح کی موت محسوس ہوتی ہے۔ یہاں پر جنازہ صرف بیٹی کی جدائی کا استعارہ ہی نہیں ہے بلکہ اس معاشرتی نظام کے اندر انسانیت کی موت کا ایک اشارہ بھی ہے کہ جس نے شادی جیسے مقدس رشتے کو بھی لین دین اور نمود و نمائش میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ چھتوں پر کھڑی تماشائی خواتین اور سرگوشیاں کرتا ہوا ہجوم اس اجتماعی بے حسی کی علامت نظر آتے ہیں جو ظلم کو رسم کا نام دے کر چپ چاپ قبول کر لیتا ہے۔ اس طرح افسانہ نہ تو براہِ راست وعظ کرتا ہے اور نہ ہی کھوکھلی نعرہ بازی، بلکہ یہ افسانہ علامات، تضاد اور منظرنگاری کے ذریعے اپنے قاری کو اس مقام پر لا کر کھڑا کر دیتا ہے جہاں پر وہ خود اس سوال سے دوچار ہو جاتا ہے کہ کیا بیٹی واقعی ایک چڑیا ہے یا پھر وہ ایک ایسا سماجی قرض ہے جسے ایک دن اتارنا ہی اتارنا ہے۔
مجموعی طور پر عارفین یوسف صاحب کا یہ افسانہ جہیز کے مسئلے کو محض معاشی بوجھ کے طور پر ہی نہیں بلکہ عورت کی ذاتی شناخت، وقار اور اس کے وجود کے استحصال کے طور پر پیش کرتا ہے اور اسی وجہ سے یہ ایک سادہ واقعے سے آگے بڑھ کر ہمارے سماجی ضمیر پر دستک دینے والا گہرا تنقیدی متن بھی بن جاتا ہے۔
محترم عارفین یوسف صاحب کے اس افسانے کی اصل فنی قوت صرف موضوع اور متن میں ہی نہیں ہے بلکہ اس کے سٹرکچر اور بالخصوص اس کے اچانک اختتام میں بھی پوشیدہ ہے۔ سٹرکچر کے لحاظ سے افسانہ ایک بتدریج پھیلتا ہوا ایسا کینوس نظر آتا ہے جو کہ قاری کی آنکھوں کے سامنے ایک منظر کھینچ کر رکھ دیتا ہے۔ منظر نگاری کی ابتدا میں اندرونِ لاہور کی تنگ اور بوسیدہ گلی کا منظر نظر آتا ہے جو قاری کو ایک مخصوص ماحول میں داخل کرتا ہے اور منظر نگاری کی قوت سے اس کے ذہن میں ایک خاص امیج تخلیق کر دیتا ہے جو آگے چل کر افسانے کے مخصوص تاثر کی تخلیق میں مدد دیتا ہے اور قاری کی ذہن سازی کر دیتا ہے۔ پھر آگے بڑھتا بڑھتا یہ منظر نگاری کا کمال آہستہ آہستہ مرکزی مکان پر فوکس کرتا جاتا ہے، پھر ڈیوڑھی سے ہال اور ہال سے اشیائے جہیز کی قطاروں تک پہنچ کر یہ فوکس مزید سے مزید مرتکز ہو جاتا ہے۔ گویا بیانیہ ایک ویڈیو بنانے والا ہے جو وسیع منظر سے فوکس ہوتا ہوا ایک خاص نقطے پر مرکوز ہو جاتا ہے اور اسے زوم کر دیتا ہے۔ اس بتدریج سکڑاؤ کے بعد اچانک منظر گھر کے صحن میں کھلتا ہے جہاں پر ایک ہجوم ہے اور وہاں پر رخصتی کا منظر سامنے آتا ہے۔ افسانے میں منظر نگاری کا یہ انداز ایک دائرے کے جیسا نہیں بلکہ یہ ایک قیف کے جیسا انداز ہے۔ گویا یہ ایک بلیک ہول ہے جو اندر کو سمٹتا سمٹتا پھر اچانک ایک اور ہی دنیا میں کھکتا ہے۔ یہ ترتیب اختتام کو اور بھی زیادہ مؤثر بناتی ہے کیونکہ قاری پوری طوالت میں اشیاء کی تفصیل میں الجھا رہتا ہے اور اسے گمان ہی نہیں ہوتا ہے کہ اچانک ماحول بدلے گا اور وہ رنگینیوں سے نکل۔کر ایک المناک صورتحال سے دوچار ہو جاۓ گا۔ وہ سمجھتا ہے کہ شاید متوسط طبقے کی شادی کی عام تیاریوں کا بیان ہے، مگر آخری جملہ پورے کے پورے بیانیے کو ہی نئی معنویت دے کر الٹا دیتا ہے۔
اچانک اختتام اس افسانے کی سب سے نمایاں ٹیکنیک ہے۔ پورے متن میں بیٹی براہِ راست موجود نہیں، حتیٰ کہ اس کی آواز تک سنائی نہیں دیتی، بلکہ اس کی جگہ اس کا جہیز بولتا سنائی دیتا ہے۔ جس وقت قاری کے ذہن میں ایک عمومی شادی کا منظر تشکیل پا رہا ہوتا ہے عین اسی وقت یکایک ماں کی چیخ اس تشکیل کو توڑ دیتی ہے کہ، “ڈولی اٹھنی ہے جنازہ کیوں اٹھا رہے ہو؟” یہ جملہ نہ صرف انتہائی جذباتی شدت رکھتا ہے بلکہ ساخت کے اعتبار سے بھی ایک جھٹکا (shock effect) پیدا کرتا ہے۔ اور افسانہ کسی وضاحت، نتیجہ یا بعد کے منظر کے بغیر اچانک ختم ہو جاتا ہے۔ یہی ادھورا پن ہی اس کی تکمیل ہے، کیونکہ قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے کہ یہاں اس جنازے کے الفاظ سے مراد کیا ہے؟ کیا یہ صرف ایک ماں کے جذبات ہیں یا واقعی یہاں پر ایک سماجی قتل واقع ہو رہا ہے؟ اس سوال کا جواب متن فراہم نہیں کرتا بلکہ قاری کو تجسس میں رکھ کر اس سوال کا جواب اس کے شعور پر چھوڑ دیتا ہے، اور یہی تجسس اس افسانے کو دیرپا اثر بخشتا ہے۔
مزید برآں، اچانک اختتام قاری کے ساتھ ایک نفسیاتی عمل سرانجام دیتا ہے۔ پورے افسانے میں اشیاء کی چمک دمک اور تفصیل ایک طرح کا سستی narrative dela پیدا کرتی ہے جس سے قاری کی توجہ اصل سانحے سے ہٹ کر افسانے میں شادی کی ظاہری تیاریوں پر مرکوز رہتی ہے۔ لیکن جب جذباتی دھماکہ ہوتا ہے تو قاری کو شدت سے احساس ہوتا ہے کہ وہ بھی ہجوم کی طرح سامان دیکھنے میں ہی مصروف تھا اور اصل المیہ اس کی نظروں سے اوجھل ہی رہا۔ اس طرح افسانہ قاری کو محض متاثر نہیں کرتا بلکہ اسے لاشعوری طور پر سماجی تماشائی کے کردار میں شریک کر کے اس کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہی پرتجسس اور جھٹکادار اختتام افسانے کو روایتی بیانئے جیسے انجام سے ممتاز بناتا ہے اور اسے علامتی افسانے کی بلندی عطا کرتا ہے۔ یوں “چڑیاں دا چمبا” کا سٹرکچر اور اس کا اچانک اختتام مل کر ایک ایسا فنی تاثر قائم کرتے ہیں جو مطالعے کے بعد بھی دیر تک ذہن میں گونجتا رہتا ہے اور قاری کو افسانے کے متن کی تہوں میں واپس جانے پر مجبور کرتا رہتا ہے۔