غزل
غزل / یہ اور بات، کسی نفس کو دوام نہیں / عرفان ستار
غزل
یہ اور بات، کسی نفس کو دوام نہیں
مگر اجل مِرے ہونے کا اختتام نہیں
تِری یہ فتنہ گری بس ترس کے قابِل ہے
کہ حاسدوں سے الجھنا مرا مقام نہیں
ہر ایک شَخص میں تو صرف عیب دیکھتا ہے
عبث وجود، تجھے اَور کوئی کام نہیں؟
تجھے کسی نے پتہ ہی غَلط بتایا ہے
نہیں میاں، یہاں غیبت کا اہْتمام نہیں
یہ ٹوٹ پھوٹ جو مجھ میں دکھائی دیتی ہے
دوبارہ بننے کی کوشش ہے انہدام نہیں
ہم اور آپ بھلا کس شمار میں کہ یہاں
اساتذہ کا بھی اب کوئی احترام نہیں
اٹھا رہا ہے تِرے ناز پر یہ دھیان رہے
پسند کرتا ہے تجھ کو، ترا غلام نہیں
یہ رمْز کیا ہے خدایا کہ تیری جنَت میں
برائے اہلِ خبر کوئی انتظام نہیں
مَآلِ فِکر و ریاضَت تو دیکھیے عِرفان
بہت طویل سی فہرست میں بھی نام نہیں




