نظم / سرفراز آرش
نظم
ہم تو وہ ہیں
جنہیں پیٹ سے سوچتا یہ جہاں
فائدے اور خسارے کے بازار میں بھیجتا ہی رہا
ہم نہیں جا سکے
منزلوں کے تعین کی اس دوڑ میں
ہم گرفتار خواب و تمنا رہے
ہم کو ابن بطوطہ کا عزم سفر ٬ مارکو پولو جیسوں کی آوارہ آنکھیں ملیں
ہم نے ہستی کی چھوٹی سی دھرتی پہ چلتے ہوئے وہ چراغاں کیا
کہ فلک پہ چمکتے ستاروں نے اپنی کلائی کی نس کاٹ لی
ہم تو وہ ہیں جنہیں
زندگی خود نمائی کے گھڑیال میں سوئیوں کی طرح لمحہ لمحہ رواں دیکھنے کی تمنائی ہے
سو ٹھہرنا ہماری جبلت کا شیوہ نہیں
اے تمنائے آوارگی !
ہم کو اپنی زمین اور اپنوں کی قربت سے دوری کا دکھ
فاصلے کی اذیت
سفر کی تھکاوٹ
بچھڑنے کا ڈر
یا کوئی اور غم روک پاتا نہیں
اشک آتا ہے آنکھوں میں
لیکن
سفر کی مسرت
تجسس کی تفہیم کا شوق جاتا نہیں
سو وہ سب دیکھنا ہے
جو سن رکھا ہے
جس کو پڑھ رکھا ہے
وہ جو چشم تصور میں آ جائے تو آہ بن جاتا ہے
جو اداسی سے تنہائی
تنہائی سے خوف اور
خوف سے بےبسی
بے بسی سے ۔۔۔۔۔۔۔ (مگر یہ نہ ہو پائے گا )
اے جہان تحیر ! مرے دوستا
اے حسین وادیوں کے خدا !
میں سمندر کی وسعت سے
صحرا کی وحشت سے
جنگل کی دہشت سے
اونچے پہاڑوں کی ہیبت سے ہوتا ہوا
تیری حیرت کو خود میں سموتا ہوا
تجھ میں کھو جاؤں گا
خاک ہو جاؤں گا
میں کہ شاعر ہوں ایسا اگر نہ ہوا
تو پرندے ترس کھا کے اک دوسرے سے کہیں گے
خدا آدمی سی اسیری کسی کو نہ دے




