انڈیا: محبت کی شادی میں والدین کی رضامندی لازم قرار دینے پر غور

انڈیا کے سیاست دان ایک ایسا نظام تلاش کر رہے ہیں جس میں محبت کی شادیوں کے لیے والدین کی رضامندی لازم ہو گی۔
گجرات وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست ہے اور وہ اس کے وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔
سیاست دان مبینہ طور پر اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا یہ نظام ممکن اور آئینی دفعات کے مطابق ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ تجویز ریاست کی ایک بااثر پاٹیدار نامی برادری کے مطالبے کے جواب میں سامنے آئی۔
اتوار (31 جولائی) کو مہسانہ میں سردار پٹیل گروپ کی جانب سے منعقدہ ایک پروگرام کے دوران بھوپندی پٹیل نے مبینہ طور پر اپنے وزیر صحت رشیکیش پٹیل کے ساتھ اپنی بات چیت کا تذکرہ کیا۔
بھوپیندر نے کہا ’اگر آئین اس کی اجازت دیتا ہے، تو ہم ایک سروے کریں گے اور کوشش ہوگی کہ بہترین ممکنہ نتائج حاصل کیے جائیں۔‘
گجرات کے وزیراعلیٰ کو اس معاملے پر حزب اختلاف کی کانگریس پارٹی کے ایک مقامی قانون ساز عمران کھیڑا والا کی بھی معاونت حاصل ہے۔
عمران کھیڑا والا نے کہا ’ایسے وقت میں جب محبت کی شادیوں میں والدین کو نظر انداز کیا جاتا ہے، حکومت محبت کی شادیوں کے بارے میں ایک مخصوص نظام بنانے کا سوچ رہی ہے جو آئینی طور پر قابل عمل ہو۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’چیف منسٹر نے محبت کی شادیوں میں والدین کی لازمی منظوری کے بارے میں ایک مطالعہ کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
’وزیراعلیٰ نے اس بارے میں بات کی ہے۔ اگر حکومت اسمبلی اجلاس میں ایسا قانون لاتی ہے تو میری حمایت حکومت کے ساتھ ہے۔‘
اس سال کے آغاز میں گجرات کے مقامی قانون ساز فتح سنگھ چوہان نے محبت کی شادیوں کو جرم سے جوڑتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ والدین کی منظوری کو لازمی بنانے سے ریاست میں جرائم کی شرح کم ہوگی۔
رواں برس مارچ میں ٹائمز آف انڈیا نے چوہان کے حوالے سے لکھا تھا: ’والدین کی رضامندی کے بغیر کی جانے والی شادیاں ریاست میں جرائم کی شرح میں اضافہ کرتی ہیں اور اگر اس طرح کی شادیاں والدین کی رضامندی سے ہوں تو جرائم کی شرح میں 50 فیصد کمی آئے گی۔‘
انہوں نے کہا ’کورٹ میرج متعلقہ علاقے میں نہیں بلکہ دیگر اضلاع میں رجسٹرڈ ہیں۔
’لڑکے اور لڑکیاں اپنے کاغذات چھپا کر دوسرے اضلاع میں شادی کرتے ہیں اور بعد میں یا تو لڑکی کو تکلیف ہوتی ہے، یا والدین کو خودکشی کرنی پڑتی ہے۔
’جو والدین اپنے پیشوں کی وجہ سے مصروف رہتے ہیں وہ اپنی لڑکیوں کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے ہیں اور اسی وجہ سے سماج دشمن اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور لڑکیوں کو بھگا کر لے جاتے ہیں۔‘




