غزل
غزل | اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری | ذیشان اطہر
غزل
اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری
جس جگہ بیٹھی رہی دھاک مری
میں ہوں پتھر کی طرح پانی میں
اب کریں نقل یہ تیراک ، مری
دیکھنے والی نظر ہے ، جتنی
اتنی میلی نہیں پوشاک مری
کان میں اس کے کرے بات کوئی
اور اونچی نہ رہے ناک مری
کب سے سونی ہیں منڈیریں گھر کی
رہ گئی جانے کہاں ڈاک مری
دیکھتا رہتا ہوں اب کھانے کو
بس یہی رہ گئی خوراک مری
وہ بھی کیا دن تھے جنوں کے ذیشان
حسن کرتا تھا قبا چاک مری




