نظم
اہرامِ عصر | اویس ضمؔیر
اہرامِ عصر
عمارت کی نچلے طبق سے
جو اوپر کو دیکھا
لگا یوں مجھے
جیسے مَیں درجہ درجہ اٹھائے گئے مقبرے کے کسی نچلے درجے میں ہوں
دُور اوپر سے اوپر
فلک بھی ہے اِک سرمئی چھت
جو دل کی گُھٹن دو گنا کر رہی ہے
منازل سے آزاد چوکور زینے
مکعّب مکعّب چڑھے جا رہے ہیں
جِھری در جِھری بالاخانے جھلکتے ہیں جو
دائیں بائیں عمارت سے باہر
عمودی چٹانوں کے جیسے کھڑے ہیں
مِرے واسطے اَب
کُھلا آسماں اِک تصور ہے جو
محض دل میں کہیں بند ہے
روح کو گر مِری اذنِ پرواز ہو
تو بھی کوئی خَلاصی نہیں ہے
کہ وہ بھی اِسی لحد کی ٹھوس دیواروں سے
تا ابد بس ٹکرتی رہے گی
انہی شش جہت میں بھٹکتی پھرے گی
ان اہرام سے تو کوئی خفیہ روزن
فلک سمت جبّار* کو جھانکتا بھی نہیں ہے!
*** ستاروں کا جھرمٹ جسے Orion کہتے ہیں۔۔۔




