نظم

ایسا ممکن ہی نہیں | زاہد خان

ایسا ممکن ہی نہیں

ایسا ممکن ہی نہیں

میں جسے ڈھونڈنا چاہوں وہ مجھے مِل جائے

میں جسے کھوج رہا ہوں وہ خُدا ہے ہی نہیں

کوئی بےانت خلا ہے کہ جسے

پار کرنے میں مجھے وقت لگے گا شاید

 

ایسا ممکن ہی نہیں

زندگی موت ہو اور موت کوئی دائمی شے

تم بہت دور سہی دور نہیں ہو مجھ سے

میں نے محسوس کیا رنگِ جہاں میں تم کو

میں نے ٹوٹے ہوئے تارے میں تمھیں دیکھا ہے

 

ایسا ممکن ہی نہیں

میں تمھیں دھونڈنے نکلوں تو مجھے تم نہ ملو

گر یہ ممکن ہی نہیں ہے تو مری جانِ جہاں

سایۂ خواب سے باہر کسی سنسان جگہ

اپنی ہاری ہوئی بازی کو پلٹ لیتے ہیں 

 

ایسا ممکن ہی نہیں

میں کسی خواب سے نکلوں تو مجھے

اس کی تعبیر مرے تکیے کے نیچے نکلے

جانتا ہوں کہ فقط خواب نہیں ہے سب کچھ

دیکھتا ہوں کہ مجھے اُس میں تمھیں ڈھونڈنا ہے

 

ایسا ممکن ہی نہیں

ظلم کرتے رہو اور اُس کی نہ حَد ہو کوئی

گر یہ ممکن ہی نہیں ہے تو خُدائے جبروت

اپنی ہونے کی گواہی دو اِنہیں قید کرو

تیرے لوگوں پہ جو کرتے ہیں یہاں تنگ زمیں 

 

ایسا ممکن ہی نہیں

میرے ہونے کا مداوا مرے اجداد کریں

گر یہ ممکن ہی نہیں ہے تو مرا دعویٰ ہے

نوری سالوں پہ یہ پھیلا ہوا بےانت جہاں 

اس زمیں پر مرے ہونے کی گواہی دے گا

 

ایسا ممکن ہی نہیں

زندگی سازِ بقا ہو، ملک الموت فنا

زندگی اصل میں اک حد ہے مقرر کردہ

جس میں ہونے کی کشاکش میں الجھتا انسان

یہ سمجھتا ہے اُسے موت نہیں آنی ہے

 

ایسا ممکن ہی نہیں

موت اک عارضی رستہ ہو فنا تک کا کوئی

موت رستہ ہے جو جاتا ہے فنا تابہ بقا

جس میں ممکن ہے کہ ہم اپنے گزشتہ سے ملیں

یہ بھی ممکن ہے کہ مل جائے ہمیں اپنا نشاں

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x