نظم

لمس کا خواب | سیدہ گلونہ

لمس کا خواب

اک خواہش ہے

کہ معجزہ جنم لے

اور میں مٹی بن جاؤں

 

وہ مٹی

جسے کوئی صوفی کمہار

اینٹوں میں ڈھالے

اور اُن اینٹوں کو

تیری مسجد کے صحن میں بچھا دے

 

پھر جب تُو سجدے میں جھکے

میں تیرے ماتھے سے لپٹ جاؤں

تیری پیشانی پر بوسہ دوں

اور تیرے قدموں تلے

اپنی زخمی ہتھیلیاں بچھا دوں

 

بس

یوں ہی

تیرے لمس کو

ہمیشہ کے لیے

اپنے اندر سموتی رہوں

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x