
لمس کا خواب
اک خواہش ہے
کہ معجزہ جنم لے
اور میں مٹی بن جاؤں
وہ مٹی
جسے کوئی صوفی کمہار
اینٹوں میں ڈھالے
اور اُن اینٹوں کو
تیری مسجد کے صحن میں بچھا دے
پھر جب تُو سجدے میں جھکے
میں تیرے ماتھے سے لپٹ جاؤں
تیری پیشانی پر بوسہ دوں
اور تیرے قدموں تلے
اپنی زخمی ہتھیلیاں بچھا دوں
بس
یوں ہی
تیرے لمس کو
ہمیشہ کے لیے
اپنے اندر سموتی رہوں
Author
URL Copied




