غزل
غزل | جو مجھ میں رہ رہا ہے برا آدمی ہے وہ | فیصل عجمی

غزل
جو مجھ میں رہ رہا ہے برا آدمی ہے وہ
میں کیا کروں کہ مجھ سے بڑا آدمی ہے وہ
ملتا ہے رفتگاں سے بھی آئندگاں سے بھی
سب سے قدیم سب سے نیا آدمی ہے وہ
ڈرتا نہیں کسی سے مگر اس کے باوجود
ہر آئنے سے خوفزدہ آدمی ہے وہ
پیروں میں ایک تختہ ہے لہروں کے دوش پر
آبِ رواں پہ چلتا ہوا آدمی ہے وہ
آندھی کی زد میں جس طرح گرتا ہوا درخت
ٹوٹا ہوا بکھرتا ہوا آدمی ہے وہ
جاسوسی کر رہا ہے جو میرے وجود میں
آسیب ہے کہ روح ہے یا آدمی ہے وہ
نکلا جو آئنے سے مرے ساتھ چل پڑا
میری طرح بھٹکتا ہوا آدمی ہے وہ
کتنے سوال اٹھتے ہیں اس بے مثال پر
پہلا سوال یہ ہے کہ کیا آدمی ہے وہ



