
روبینہ یوسف صاحبہ کی کتاب پر تبصرہ ادھار تھا کتاب پر تبصرہ تو عنقریب پیشِ خدمت ہو جاۓ گا۔ البتہ سر ورق پر تبصرہ پیشِ خدمت ہے۔
میرے نزدیک یہ سرورق صرف ایک کتاب کا بیرونی رنگین سا غلاف ہی نہیں بلکہ یہ ایک دراصل ایک بصری بیانیہ ہے جو کہ قاری کو کتاب کے متن کے اندر داخل ہونے سے پہلے ہی ایک گہری فکری کیفیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس کتاب کا تاثر انسان کی انفرادی اذیت، اس کے داخلی انتشار اور اس کی وجودی تنہائی سے جڑا ہوا محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس کتاب کا سب سے نمایاں عنصر جو ہے وہ ایک عورت کے چہرے کا سائیہ نما خاکہ ہے جو کہ بیک وقت واضح بھی ہے اور مبہم بھی۔ اگر اس میں موجود رنگوں کی ترتیب اور ان کی جمالیاتی معنویت پر بات کی جاۓ تو اس کے اندر گھلے ہوئے گلابی رنگ اور نیلے رنگ محض جمالیاتی آرائش نہیں بلکہ یہ انسان کی ایک داخلی کائنات کے استعارے بھی ہیں۔ گلابی رنگ بچگانہ جذبات، یاد، انسان کی محبت اور اس کے خوابوں کی نمائندگی کرتا ہے جبکہ نیلا رنگ انسان کی طبعی سرد مہری، اداسی اور اس کے گہرے باطن کی علامت بن کر ابھرتا نظر آتا ہے۔ ان دونوں رنگوں کا ایک دوسرے میں مدغم ہو جانا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان کے وجود میں خوشی اور کرب دونوں الگ الگ خانوں میں محفوظ نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ ایک دوسرے میں پیوست ہو کر رہتے ہیں۔
چہرے کے اندر موجود بادلوں یا دھوئیں جیسی ساخت ایک طرح کی غیر یقینی اور تجریدی فضا قائم کرتی نظر آتی ہے۔ اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انسان کی شناخت کوئی جامد اور واضح رنگوں میں منقسم شے نہیں بلکہ یہ بدلتے ہوۓ موسموں کی طرح ایک متغیر اور تحلیل پذیر چیز ہے۔ زیرِ نظر کتاب کے سر ورق کا یہ تجریدی پن اس خیال کو تقویت دیتا نظر آتا ہے کہ “خیال کی صورت گری” دراصل کسی خارجی دنیا کا بیان نہیں بلکہ داخلی شعور اور اس کی گوں نا گوں کیفیات کی تشکیل ہے۔ یہ چہرہ یہاں فرد کی نمائندگی کرتا ہے مگر اس کا غیر واضح ہونا نہ صرف اجتماعیت کی طرف اشارہ کرتا ہے بلکہ اس کا منفرد ہوتے ہوۓ بھی مجموعی ہونے کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ گویا ہر ایک چہرہ ایک کہانی ہے اور ہر کہانی ایک اجتماعی تجربہ اور یہ چہرہ ان سب کہانیوں اور چہروں کا منہ مکھیا ہے۔
سرورق کے نچلے حصے میں موجود پانی کا عکس نہایت بامعنی ہے کیونکہ پانی ہمیشہ سے لاشعور، گہرائی اور انعکاس کا استعارہ رہا ہے۔ سر ورق پر موجود چہرے کا عکس اس پانی میں تحلیل ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ دراصل حقیقت اوپری سطح پر نہیں بلکہ کہیں تہہ میں پوشیدہ ہے۔ اور یہ عکس اپنی مکمل صورت میں بھی موجود نہیں، گویا کہ انسان اپنی ہی مکمل شناخت تک کبھی بھی نہیں پہنچ پاتا۔ پانی کا سکون بھی عارضی ہے، اس میں ذرا سی بھی جنبش پورے عکس کو ہی بکھیر سکتی ہے۔ اور یہی انسانی ذہن اور اس کی اندرونی کیفیات کا بھی حال ہے۔
سرورق کے ایک گوشے میں دور جاتے ہوئے دو انسانی پیکر دکھائی دیتے ہیں جو رفاقت، سفر اور تسلسل کی علامت ہیں۔ وہ دھندلے ہیں، جیسے یادوں کے کسی کونے میں محفوظ ہوں۔ اس بصری علامت سے یہ تاثر ملتا ہے کہ زندگی ایک مسلسل سفر ہے جس میں رشتے کبھی واضح اور کبھی مدھم ہو جاتے ہیں۔ مرکزی چہرہ تنہا ہے مگر پس منظر میں موجود یہ دو پیکر اس تنہائی کو مکمل تنہائی نہیں رہنے دیتے۔گویا انسان اپنی داخلی دنیا میں اکیلا سہی، مگر اجتماعی شعور سے کٹا ہوا نہیں۔
فنی اعتبار سے سرورق میں رنگوں کی تہہ داری، روشنی اور سایے کا امتزاج، اور تجریدی ساخت ایک جدید اسلوب کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہاں حقیقت نگاری سے زیادہ تاثریت اور علامت نگاری کو اہمیت دی گئی ہے۔ خطاطی سادہ ہے مگر مضبوط، جو تصویر کے پیچیدہ مزاج کے ساتھ ایک توازن قائم کرتی ہے۔ عنوان کا سفید رنگ پس منظر کی گہرائی میں نمایاں ہو کر ایک امید کی۔ لکیر سا محسوس ہوتا ہے۔ گویا خیال کی تمام دھند کے باوجود اظہار ممکن ہے۔
فکری سطح پر یہ سرورق انسان کی داخلی کائنات، یاد اور شناخت کے سوالات کو بصری پیرائے میں پیش کرتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان ایک سطحی وجود نہیں بلکہ رنگوں، سائے، عکس اور دھند کا مجموعہ ہے۔ یہاں خیال مادّی صورت اختیار کرتا ہے اور صورت خیال میں تحلیل ہو جاتی ہے۔ یہی ایبسٹریکٹ حسن اس سرورق کو محض ایک ڈیزائن نہیں بلکہ ایک خاموش مکالمہ بنا دیتا ہے۔ ایک ایسا مکالمہ جو قاری کو کتاب کھولنے سے پہلے ہی اس کے باطن کے دروازے پر دستک دیتا نظر آتا ہے۔




