”تجاذب“ کی پُر اثر بے ساختگی / انتخاب : توحید زیب

”تجاذب“ کی پُر اثر بے ساختگی
انتخاب : توحید زیب
”تجاذب“ کی حیران کر دینے والی شاعری سے مکمل لطف اندوزی کے لئے سائنس ، فلسفہ اور نفسیاتی باریکیوں کی آگہی کارآمد ہے ۔ اِس شاعری کی فضا عامیانہ زبان یا نابالغ عشق معشوقہ نہیں یہ متبائن کائناتوں کے گرد و پیش کے تجسّس کی تفسیر اور اشاراتی ترجمانی ہے ۔ موجود اور روایت سے بور آدمی کے لئے یہ کائناتی رومانس اور بے ذائقہ کرنٹ سے چلتے حُسن کی جمالیات انتہائی رومانچک اور بعض اوقات relevant ہے ۔
ہر زمانے میں فکری تبدیلیوں اور عصری حساسیت کا الگورتھم مختلف ہوتا ہے اور اسی الگورتھم کی تہذیب سے محض آگہی ہی نہیں بلکہ بھرپور گرفت ” تجاذب“ کی شاعری کو جوان کیے ہوئے ہے ۔ داخلی کیفیات سے عبارت یہ نارسائی کی کشمکش ، عجب طلسماتی تشبیہات و استعارات سے روانہ ہوتا یہ سخن قاری کے لیے نئے فکری رجحان اور جمالیاتی پہلو روشن کرتا ہے ۔ اردو غزل میں ”تجاذب“ کی پُر اثر بے ساختگی جدیدیت کا اصل ہے جو زبان ، بیان اور مفہوم کے لحاظ سے بالکل مکمل ہے ۔ شاہد ماکلی صاحب دلی مبارک باد قبول کیجیے ۔
مری کرن کا جھکاؤ رہا تری جانب
تری کشش سے مری روشنی میں بل آیا
اُگا نہیں ہے مگر کِھل رہا ہے فردا میں
جو ہے نہیں ، اسے ہوتا ہوا سمجھ لیجے
سخن رقم نہیں ہوتا ، روانہ ہوتا ہے
صریرِ خامہ کو بانگِ درا سمجھ لیجے
جہاز اک دن سمے کے دوسرے ساحل سے پہنچیں گے
ہمارے حال تک کچھ لوگ مستقبل سے پہنچیں گے
غزل دل کے گراموفون پر بجتی ہوئی دُھن ہے
جہاں پہنچے گی دُھن ، ہم بھی وہاں تک دل سے پہنچیں گے
میں کیا بتاؤں کہ کب سے ہے تیرا ہجر مجھے
تُو جب نہیں تھا ، یہ مضموں ہے تب کا باندھا ہوا
سفر سے پہلے بناتے تھے فرضی راستہ ہم
پھر اس پہ ٹھوکریں کھانے کی مشق کرتے تھے
محبت آخری معیار تھی ہدایت کا
جو تجھ سے عشق نہ کرتے تھے کفر کرتے تھے
ہم اتنی دور نکل آئے بیکرانی میں
زمیں سے رابطہ کٹ سکتا ہے کسی بھی وقت
بھنور بنایا ہے خود میں یہ سیکھنے کے لیے
کہ ڈوب جاؤں تو پھر کس طرح اُبھرنا ہے
بس اب تو ایک یہی رہ گیا ہے سیکھنے کو
جو سیکھا ہے وہ فراموش کیسے کرنا ہے
کشش کا ردِّ کشش ہے عمل کا ردِّعمل
بدن سے لمحہ بہ لمحہ گریز پائی مری
الگ نہ کر سکا اب تک میں اس کے اجزا کو
بعید کیا ہے کہ حیرت ہو کیمیائی مری
مجھے تو عرصۂ برزخ تھا جاں کنی جیسا
قیامت آئی تو سانسوں میں سانس آئی مری
ہو رہا ہے کئی زبانوں میں
ترجمہ میری بے زبانی کا
کائناتوں میں لٹاتا نہ اگر
اتنی تنہائی کدھر کرتا میں
ذہانت نے نئی دنیا کی بوطیقا مرتّب کی
کہانی حاشیے پر جا چکی شاعر کے منصب کی
کہیں ذرّے کو اپنی موج میں اُڑتا ہوا دیکھو
تو شاید تم سمجھ پاؤ حیات آزاد مشرب کی
ابد کے طشت میں کچھ پھول اور ستارے لیے
یہ میں ہوں ! دُور سے آیا ہوا ، تمہارے لیے
دیارِ گریہ کی گلیوں میں ایسی پھسلن ہے
بشر گزرتے ہیں دیواروں کے سہارے لیے
خدا سے خوف زدہ اتنے کر دیے گئے ہم
کہ ہم نے سانس بھی دنیا میں ڈر کے مارے لیے
سرائے شب میں نہ آئے کسی بدن پہ یہ وقت
کہ اس کے سائے کو کھڑکی سے کودنا پڑ جائے
میں تجھ سے کٹ کے جلا شاخِ صندلیں کی طرح
میں راکھ ہو گیا ، مجھ سے تری مہک نہ گئی
قباحت ایسی بھی کیا ہے نظر نہ آنے میں
کہ دن گزار دیں لوگوں سے منہ چھپانے میں
مشین دیکھتی ہے ، سوچتی ہے ، بولتی ہے
ہمارا آپ کا اب کام کیا زمانے میں
کرن سے تیز ہے رفتار بے خیالی کی
ہماری گرد کو تارے نہیں پہنچ سکتے
ثمر درخت سے گرتے ہیں ہم نگاہوں سے
کہیں کشش کا عمل ہے کہیں گریز کا ہے




