سعودی عرب کی پاکستان افغان جھڑپوں پر تشویش/ اردو ورثہ
سعودی عرب نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی اور جھڑپوں کا قریب سے جائزہ لے رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب دونوں طرف سے تحمل برتنے، مزید اشتعال انگیزی سے بچنے اور اختلافات کو گفتگو اور حکمت کے ذریعے حل کرنے کی درخواست کرتا ہے — ’ایسے اقدامات جو کشیدگی کو کم کرنے اور خطے کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد کریں گے۔‘
سعودی عرب نے کہا کہ وہ تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششیں کی جو پاکستان اور افغانستان کے برادر لوگوں کے لیے امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے ہیں بھی مکمل حمایت کرتا ہے۔
ولی عہد و وزیرِاعظم سعودی عرب محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے گذشتہ دنوں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ’سٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے ہیں۔ اس تناظر میں سعودی وزارت خارجہ کے فوری بیان کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصورکیا جائے گا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کی طویل المدتی دوستی اور تعاون کا مظہر ہے، بلکہ اس معاہدہ کو موجودہ عالمی اور علاقائی حالات کے تناظر میں ایک غیرمعمولی سفارتی پیش رفت بھی قرار دیا گیا۔
مبصرین کے مطابق اس معاہدے کے ذریعے پاکستان اور سعودی عرب نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ نہ صرف داخلی سلامتی کے لیے سنجیدہ ہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کو فروغ دینے کے لیے بھی پُرعزم ہیں۔




