خبریں

خیبر پختونخوا: شدت پسندوں کے مختلف حملوں میں پانچ اہلکاروں کی موت: پولیس/ اردو ورثہ


خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں پولیس کے مطابق بدھ اور جعمرات کی درمیانی شدت پسندوں کے حملوں کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار جان سے چلے گئے۔

پہلا حملہ پشاور کے تھانہ حسن خیل پر ہوا، جہاں پولیس کے مطابق ایک اہلکار جان سے گیا۔

اسی طرح ضلع لوئر دیر کے تھانہ لاجبوک پر شدت پسندوں کے حملے میں ضلعی پولیس افسر عبدالسلام خالد کے مطابق ایک پولیس اہلکار کی موت ہوئی۔

عبدالسلام خالد نے بتایا کہ پولیس فورس ہر حال میں امن و امان یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں بہادری سے سر انجام دیتی رہے گی۔

اسی طرح تیسرے واقعے میں شدت پسندوں کی جانب سے گذشتہ رات دیر بالا میں پناہ کوٹ کے مقام پر پولیس وین پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار جان سے چلے گئے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دیر بالا کے ضلعی پولیس افسر سید محمد بلال نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ پاکستان کی آزادی کے دن دیر بالا کے تین مزید پولیس اہلکاروں نے جان کی قربانی دی ہیں۔

سید محمد بلال کے مطابق وین پر حملے کے نتیجے میں چھ اہلکار زخمی بھی ہوئے، جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں گذشتہ کچھ عرصے سے امن و امان کی صورت حال مخدوش ہے اور شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

قبائلی ضلع باجوڑ میں شدت پسندوں کی موجودگی کی وجہ سے ماموند کے علاقے میں ’ٹارگٹڈ آپریشن‘ کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔

آپریشن کے نتیجے میں علاقے میں کرفیو نافذ کیا گیا اور تقریباً 10 ہزار افراد نے نقل مکانی کی۔

Author

Related Articles

Back to top button