افسانہ

استقبال/عارفین یوسف

افسانہ:استقبال/ عارفین یوسف

میں بس سٹاپ پر فروٹ کی ریڑھی لگاتا ہوں۔ یہاں لگانے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ لوگوں کی آمدورفت لگی رہتی ہے۔ زندگی کے دس سال یہاں گذار چکا ہوں۔ اس دوران سرکاری اور نجی اداروں کے لوگوں، خواتین، بزرگوں، نوجوانوں حتی کہ بچوں کو ڈیل کرنے کا طریقہ ازبر ہو چکا ہے۔ ان کو مطمئن کرکے سارے اخراجات فروٹ کی قیمتوں میں شامل کر کے گاہک سے ہی وصول کرنے ہوتے تھے۔ یہاں میرے ساتھ چاول چھولے والا اور شربت والا بھی اپنی اپنی ریڑھیوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ہم سب ایک دوسرے کی گاہکی بڑھانے کا سبب بنتے تھے اس لیے سب شیر وشکم تھے۔ فالتو وقت میں گپ شپ بھی لگی رہتی۔

مجھے دو سال قبل ایک نیا شوق پیدا ہوا اور وہ یہ کہ میں آنے والے لوگوں کے چہروں پر نظر رکھتا، انہیں پڑھنے کی کوشش کرتا۔ جب کوئی ہماری طرف آتا تو میں اندازہ لگانے کی کوشش کرتا کہ وہ ہم تینوں ریڑھیوں میں سے کس کی طرف جائے گا۔ اس مشق نے میرے مشاہدے اور حافظے کو تیز کر دیا تھا مگر مشاہدے اور حافظے کی تیزی بھی دو ہی نقطوں کی اسیر ہو گئی تھی۔ ایک یہ کہ آنے والا شخص کس ریڑھی کی طرف جائے گا اور دوسرا گھر کی کون سی ضرورت کیسے پوری کرنی ہے۔ اب یہاں کھڑے کھڑے میری زندگی میں ایسے لمحے آتے جو مجھے لمحاتی خوشی اور کامیابی دے جاتے۔ میرے اندازے کے مطابق جب کوئی شخص میری ریڑھی کی طرف بڑھتا تو وہ میرے لیے کامیابی کا لمحہ ہوتا۔پھولوں کی طرح پھل بھی ہر موقع پر استعمال ہوتے ہیں۔ شادی بیاہ ہو، کسی کا جنازہ، قل یا چہلم ہو، کسی کو کامیابی پر مبارکباد دینی ہو یا کسی کی ناکامی پر غم گساری کرنی ہو، بیمار کی عیادت ہو یا کسی صحت مند کے طرف خیر سگالی کے لیے جانا ہو کوئی بھی موقع ہو اور گرمی، جاڑا، برسات غرضیکہ کو ئی بھی موسم ہو، پھل ایک سدا بہار سوغات ہیں۔

ساون کی رم جھم نے مجھے پھلوں پر پانی کا چھڑکاو کرنے کی زحمت سے بچا لیاتھا۔ میں آم، سیب، کیلوں اور خوبانیوں کو مخصوص ترتیب کے ساتھ رکھنے میں مگن تھا تاکہ ریڑھی پھلوں سے لدی دکھائی دے۔ دوپہر کا وقت تھا تو چاول چھولے اور چائے والے کے آس پاس بھی لوگ منڈلا رہے تھے۔ ایسے میں میری دوربینی نگاہ نے سامنے سے آتے ایک ادھیڑ عمر شخص کو دیکھا جو نپے تلے قدموں سے ہماری ریڑھیوں کی سمت چلا آ رہا تھا۔ اس کے ساتھ ایک نوعمر لاابالی بچہ بھی تھا جو بارش کی کن من سے اٹکھیلیاں کرتا اپنی ہی خوشی میں سرشار مست خرامی کرتا آ رہا تھا۔البتہ ادھیڑ عمر شخص کے بیضوی چہرے پر ضرورت سے زیادہ ہی سنجیدگی کھنڈی ہوئی تھی۔اس کے چہرے مہرے اور لباس کی تراش خراش سے میں نے اندازہ لگا لیا کہ کسی سرکاری ادارے میں کلرک ہو گا بیچارہ۔ میں ایسے لوگوں کی بیزاری سے بخوبی واقف تھا جو دفتر میں باس کی جھڑکیاں کھا کر گھر آتے ہیں اور اُن کی بیویاں الٹے پیروں کچھ نہ کچھ لینے بازار بھیج دیتی ہیں۔ سونے پر سہاگہ سارادن بچوں کی ستائی ایسی خواتین بچوں کو بھی ان کے ہمراہ کر دیتی ہیں۔ تو میرا اندازہ بالکل ٹھیک نکلا۔ وہ شخص سیدھا میری ریڑھی پر آ کر رکا۔ شاید موسم کا اثر تھا یا سارا دن گھر میں گزارنے کے بعد باہر نکلنے کی مسرت تھی جو بچے کو نچلا نہ بیٹھنے دے رہی تھی۔ ایسے کلرکوں سے مجھے قیمت کے معاملے پر بہت بحث کرنی پڑتی ہے سو میں نے پھلوں کے نرخ اپنے ذہن میں ازسر نو ترتیب دیئے کہ بعد میں گھٹانے بھی پڑیں تو مجھے پھر بھی کافی منافع ہو جائے۔

میری خوش قسمتی کہ اس شخص نے قیمت کی چنداں بات نہ کی اور میری توقع کے برعکس کافی مقدار میں آم، سیب، کیلے اور خوبانیاں لے لیں۔میں سمجھ گیا کہ اس کے سسرالی رشتہ داروں میں سے کسی کی آمد متوقع ہے اسی لیے خاتون خانہ نے اتنی مقدار میں پھل منگوا لیے ہیں۔ اب اگر یہ بیچارہ ایسے موقع پر بیوی کی بات نہ مانتا تو اس کو مدتوں گھر میں ڈھنگ کا کھانا بھی نصیب نہ ہوتا۔ اس کے ساتھ آیا بچہ مسلسل پھلوں کو ہاتھ لگا لگا کر ریڑھی کے آگے پیچھے مچل رہا تھا۔ اس شخص نے پھل لینے کے بعد میری طرف سوالیہ انداز میں دیکھا تو میں نے رٹے رٹائے انداز میں پھلوں کی قیمتوں کو بلند آواز سے جمع کر کے مجموعی رقم اُسے بتا دی۔ اُس نے کوئی بات کیے بغیر اپنی جیب میں پڑے پرس میں سے پانچ ہزار کا نیا نکور نوٹ نکالا اور میری طرف بڑھا دیا۔ اس سے قبل کہ میں باقی رقم اسے دیتا وہ بچے کا ہاتھ تھامے چل پڑا۔ میں اگرچہ پھلوں کی قیمت میں گاہک کی حیثت مدنظر رکھتے ہوئے موقع پر ہیر پھیر کر دیتا ہوں مگر کبھی کسی کے پیسے اس طرح اینٹھنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے ساکھ بے حد متاثر ہوتی ہے جس کا مجھ جیسا شخص متحمل نہیں ہو سکتا۔ بھائی صاحب بقایا تو لیتے جاو۔۔۔ میں نے باآواز بلند کہا۔

اُس شخص نے پلٹ کر مجھے دیکھا اور بچے کو اشارہ کیا جو بھاگتا ہوا میری طرف لپکا۔ بقایارقم لپیٹ لپاٹ کر بچے کو تھماتے ہوئے میں نے جھک کر کہا۔۔۔۔برخودار بہت موج میں لگتے ہو۔۔۔ کیا ماجرا ہے؟؟؟ بچہ بھی شاید بتانے کو بے تاب تھا۔۔۔۔ آج میرے بابا سعودیہ سے آر ہے ہیں۔۔۔ مجھے پتا ہے وہ میرے لیے ٹیبلٹ لے کر آئیں گے۔۔۔بچہ سانس لیے بغیر بول کر ہانپنے لگا۔۔۔۔ تو یہ تمہارے بابا نہیں ہیں؟ میں نے عجلت میں بچے کو کریدا۔۔۔۔ واپسی کے لیے مڑتے ہوئے بچے نے کہا۔۔۔ یہ تو میرے چاچو ہیں۔۔۔اور بھاگ کر اپنے چچا کے ہمراہ ہو لیا جو آہستہ روی سے بلا رکے چلے جا رہاتھا۔۔۔اوہ تو میرا اس کے کلرک ہونے والا اندازہ غلط نکلا۔ ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ میں اپنے گاہک کے متعلق صحیح گمان نہ کر سکا ہوں۔

خیر اس بارے تو میں بالکل ٹھیک معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا۔تو یہ اُن بھائیوں میں سے ہے جو اپنے بھائی کے پیسے پر موج کرتے رہتے ہیں جبھی بھائی کے آنے کی خبر اُن پر بجلی بن کر گرتی ہے کیونکہ پھر ان کو دکھاوے کے لیے پردیسی بھائی کا شاندار استقبال اور اس کے واپس جانے تک اچھی خاصی خاطر مدارت کرنا پڑتی ہے اور خرچہ کرنا ایسے لوگوں کی سرشت کے ہی خلاف ہے۔۔۔۔میں نے نخوت سے سوچا اور سر جھٹک کر اپنی طرف بڑھتی ایک خاتون کی طرف متوجہ ہو گیا۔

شام کے جھٹپٹے میں اچانک مجھے بچے کے ساتھ آنے والا وہی شخص پھر سے دکھائی دیا مگر اس دفعہ اس کے ساتھ بچہ نہیں تھا۔ وہ ساون کی مرطوب ہوا میں سڑک پر پُرہول سائرن بجاتی ایمبولینس میں ڈرائیور کی بغلی نشست پر اُسی گھمبیر سنجیدگی کے ساتھ براجمان تھا۔ ٹوٹی پھوٹی سڑک میں بارش کے پانی سے بھرے گڑھوں سے چھینٹے اڑاتی ایمبولینس کی پچھلی کھڑکی کے شیشے میں سے میں نے ایک بھاری بھرکم آبنوسی تابوت کی جھلک دیکھی۔

عارفین یوسف
16جولائی2025

Author

Related Articles

Back to top button