گھر پر حملہ اور اہل خانہ پر تشدد ہوا: پی ٹی آئی چیئرمین گوہر خان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین گوہر خان نے ہفتے کو کہا کہ کچھ افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان کے اہل خانہ پر تشدد کیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیرسٹر گوہر خان سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات اور پارٹی کے نشان بلے کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی دائر درخواست پر سماعت میں شریک تھے کہ انہیں اس معاملے کی اطلاع ملی۔
دوران سماعت انہوں نے اپنے اہل خانہ پر تشدد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’گھر پر کچھ لوگ آئے، فیملی پر تشدد کیا۔ چار ڈالے آئے تھے، کمپیوٹر اور دستاویزات لے کر چلے گئے۔ میرے بھیتجے اور بیٹے کو مارا، میرے پاس ابھی خبر آئی ہے۔‘
اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ’ایسا نہیں ہونا چاہیے۔‘
انہوں نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا کر کہا: ’اگر ایسا ہوا ہے تو ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘
اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’وہ اس معاملے کو دیکھتے ہیں،‘ اس کے ساتھ ہی وہ عدالت سے روانہ ہو گئے۔
پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر بھی چیئرمین گوہر خان کے گھر پر ’نامعلوم افراد کے حملے‘ کی تصدیق کی گئی۔
بیرسٹر گوہر کے گھر پر نامعلوم افراد کا حملہ:
”فیملی پر تشدد، 4 ڈالے آئے تھے، کمپیوٹر اور دستاویزات لے کر چلے گئے، میرے بھیتجے کو مارا، بیٹے کو مارا، ابھی میرے پاس خبر آئی ہے”بیرسٹر گوہر نے چلتی عدالت میں چیف جسٹس کے سامنے بیان کر دیا۔ pic.twitter.com/hezmf88GR5— PTI (@PTIofficial) January 13, 2024
اسلام آباد پولیس نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں کہا کہ پولیس ایک اطلاع پر اشتہاریوں کی تلاش میں ایک گھر پہنچی تھی، وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ گھر بیرسٹر گوہر کا ہے لہذا پولیس واپس آگئی۔
اسلام آباد پولیس نے اسے ایک معمول کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہ کسی پر تشدد کیا گیا اور نہ ہی کوئی دستاویزات اٹھائی گئیں۔ بیان کے مطابق معاملے کی مزید تحقیقات عمل میں لائی جا رہی ہیں۔
ابھی اطلاع ملی ہے کہ بیرسٹر گوہر کے گھر پولیس پہنچی ہے۔
پولیس ایک اطلاع پر اشتہاریوں کی تلاش میں ایک گھر پہنچی۔ وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ گھر بیرسٹر گوہر کا ہے ۔ اور پولیس واپس آگئی۔
نہ ہی کسی پر کسی قسم کا تشدد کیا گیا اور نہ ہی کوئی دستاویزات اٹھائی گئیں ہیں ۔
یہ…
— Islamabad Police (@ICT_Police) January 13, 2024




