غزل

غزل | وقف اپنے فکر و قلب و نظر کر رہا ہوں میں | عبدالرحمان واصف

غزل

وقف اپنے فکر و قلب و نظر کر رہا ہوں میں 

خود کو سپردِ شوقِ دِگر کر رہا ہوں میں 

دنیائے دل کو زیر و زبر کر رہا ہوں میں 

کرنا نہیں تھا عشق مگر کر رہا ہوں میں

جس غم نے روز و شب پہ سیاہی انڈیل دی

سب پنچھیوں کو اس کی خبر کر رہا ہوں میں 

جاتے ہوؤں کو میری طرف سے نوید ہو 

زندہ دلی سے وقت بسر کر رہا ہوں میں

کاندھوں پہ اپنے لاد کے حساسیت کا بوجھ

وحشت کے پل صراط کو سر کر رہا ہوں میں

اس نے کبھی کناروں کے پاؤں نہیں چھوئے 

جس جل کے پانیوں پہ سفر کر رہا ہوں میں

خود میں اگا کے یاد کے پودے نئے نئے 

اچھے بھلے وجود کو تھر کر رہا ہوں میں 

دل میں جو تیری یاد کا جگنو جلایا تھا

اب رفتہ رفتہ اس کو شرر کر رہا ہوں میں 

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x