غزل
غزل | پرندہ کینوس پر جو بنایا، بولتا ہے | فیصل عجمی
غزل
پرندہ کینوس پر جو بنایا ، بولتا ہے
یہ ایسی شاخ پر ہے جس کا سایہ بولتا ہے
میں اپنے عکس کے انجام سے خود ڈر رہا ہوں
یہ وہ درویش ہے جو ” مایہ مایہ“ بولتا ہے
در و دیوار بھی محتاط ہو کر دیکھتے ہیں
گھر آ کر جب کوئی اپنا پرایا بولتا ہے
صدائیں دے رہے ہیں بے بسی کی وادیوں میں
ہمیں یہ دیکھنا ہے کوئی آیا بولتا ہے
جسے تو نے خموشی کی چٹانوں سے تراشا
وہ آکر خواب میں کتنا خدایا بولتا ہے
بلاتا ہوں جسے میں دل کی گہرائی سے فیصل
وہ دھڑکن کی زباں میں ”آیا آیا“ بولتا ہے




