نظم

خاموشی ، لفظ اور محبت | خمار میرزادہ

خاموشی ، لفظ اور محبت

یہ گھر لوگوں سے خالی ہے

یہاں سائے ٹھہرتے ہیں

خموشی سرسراتی ہے

 

کئی راتوں سے مَیں اس کو

انہی سایوں میں پاتا ہوں

خموشی مسکراتی ہے

 

سلگتے ہونٹ ہلتے ہی

صداؤں مِیں صدا ہو کر

خموشی بھول جاتی ہے

 

شب و روزِ تمنا مِیں

محبت رات بُنتی ہے

خموشی دن بناتی ہے

 

سماعت آئنہ خانہ ہے جس مِیں لفظ کے پتھر

 مسلسل بے خیالی میں ذرا تالی بجاتے ہیں

خموشی روٹھ جاتی ہے

محبت ٹوٹ جاتی ہے

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x