اُردو ادبافسانہ

میں اور میں / رانی احمد ، ملتان

وہ خواب سفر کی کہانیوں جیسا تھا۔
اس کی بھوری آنکھیں جب دیکھتیں تو مدھ لٹاتیں۔
اگر کبھی بے ارادہ نظر اس کی قمیض کے ادھ کھلے بٹنوں پہ پڑ جاتی تو سانس لینا مشکل ہوجاتا۔
یوں لگتا پوری کائنات اس سینے میں سما سکتی ہے۔
اسے دیکھ کر بلا وجہ ہی اپنا آپ مکمل لگنے لگتا تھا۔

"میران حیدر! تم ایک دن مجھے پاگل کردو گے۔”
بے خودی بھری سرگوشی سنائی دی۔

"نمیرہ!
امی کی آواز ابھری۔
میں سرپٹ کمرے سے بھاگی۔
مجھے محسوس ہونے لگا تھا کہ جیسے امی مسلسل میری نگرانی کرتی ہیں۔
نجانے ان کو مجھ پہ کیسے شک ہوا؟
بظاہر تو سب کچھ ٹھیک ہی چل رہا تھا۔
ہوتی ہے نا ماؤں کی فطرت ٹوہ لینے والی اور میری والدہ ماجدہ تو خیر سے سرکاری سکول کی استانی ہیں۔
ہر بچے پہ نظر۔
ہر بچے کے نام، پتے،والدین حتی کے دادا، دادی تک کا جغرافیہ ازبر تھا۔
پھر اپنی اولاد سے بے خبر کیسے رہ سکتی تھیں۔
پہلے پہل تو مجھے انہیں اپنے آنے جانے کی تفصیل باہم پہنچانی پڑی۔
پھر جب اس تفصیل میں میری طرف سے ہفتہ بھر میں ہی گڑبڑ ہونے لگی تو انھوں نے تنبیہ کی۔
"نمیرہ! بیٹا لائبریری سے جلدی گھر آ جایا کرو۔
یوں دیر تک باہر رہنا مناسب نہیں”.
"جی امی”.
میرے دو لفظی جواب نے یقیناً انہیں مطمئن کیا تھا۔
تبھی انہوں نے دوسری کوئی بات نہیں کی۔
امی شکی مزاج بالکل نہیں ہیں بس تعلیمی ادارے سے جڑے رہنے اور اپنے سامنے بہت سی لڑکیوں کو آتے جاتے دیکھتی رہی ہیں۔
اسی لیے زندگی کے حوالے سے بہت سے تجربات رکھتی ہیں۔اب تو چند سال تک ریٹائرمنٹ ہونے والی یے۔
بہر حال مجھے اب مزید محتاط رہنا تھا۔
میں نے اسی سکول سے پڑھا تھا جہاں امی پڑھاتی ہیں اور وہیں سے میرے لکھنے پڑھنے اور دیگر غیر نصابی سرگرمیوں کا آغاز ہوا تھا۔
ان کی ساتھی اساتذہ انہیں مجھ پہ محنت کرنے کے مشورے دیتیں اور میری تحاریر کو بچوں کے رسائل میں بھیجنے کو کہتیں مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔
مجھے تو بڑی کہانی کار بننا تھا یہ بچوں کی جنوں،پریوں،روبوٹ والی کہانیاں مجھے بالکل پسند نہ تھیں۔
کبھی کبھی جو پسند نہ ہو اسے مکمل چھوڑنا بھی سود مند رہتا ہے۔
میں نے کبھی بچوں کی کہانیوں کی طرف توجہ نہیں دی تھی۔
ایک دن مجھے اپنی ایک ہم جماعت کے توسط سے خواتین کے ایک ماہ نامے کو پڑھنے کا اتفاق ہوا۔
کہانی تو نہ جانے کیا تھی۔ بس میرے لیے زیادہ تجسس کہانی کاروں کے ناموں میں تھا۔
آخر کیسے کوئی لفظوں کے ذریعے ایسی تصویر کشی کرسکتا ہے کہ سارے واقعات ہمارے سامنے ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ہر منظر میں ہم خود کو کھڑا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ہر مکالمہ ہمارے اندر کی کیفیت عیاں کرتا ہے۔
میرے لیے یہ سب لفظوں کے حیرت کدہ سے کم نہ تھا۔
پھر جیسے جیسے تعلیمی مراحل طے ہوئے ویسے ویسے لکھنے پڑھنے
کا شوق بھی بڑھتا گیا۔
امی کی خواہش کے برعکس میں نے ادب پڑھا مگر میری نمایاں ہوتی حیثیت نے ان کے دل سے سائنس نہ پڑھنے کی خلش کو کافی حد تک کم کردیا تھا۔
ایک دو افسانوں اور کہانیوں کے رد ہونے کے بعد جب ایک ماہ نامے میں میرا افسانہ شائع ہوا تو میری ہمت بندھی۔
تجسس،حیرت اور خوشی کا ہرعکس میری آنکھوں میں لپکا ہوگا۔
” اچھا یہ کہانی کار بھی میرے جیسے ہی ہوتے ہیں۔جن کے نام رسائل میں چھپتے ہیں۔”
میں اتنی زور سے چیخی کہ
خوشی میرے ہر مسام سے پھوٹ کر بہنے لگی۔
پھر میں نے مزید ہمت کو اٹھا کر اپنے قلم سے باندھ لیا۔
مجھے بڑا کہانی کار بننا تھا۔
یہ ایک دو افسانے،ناولٹ لکھنا تو عارضی پڑاؤ تھا۔
مجھے اب اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ سب اتنا آسان نہیں جتنا میں نے سمجھا تھا۔
اپنا نام زندگی کی لمبی فہرست میں دیکھنے کی خواہش انسان سے تواتر کے ساتھ وہ سب کرواتی جاتی ہے جو اس نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا۔
میں نے سوچا تو بہت کچھ تھا مگر جو ہونے جا رہا تھا اس کی تو مجھے خود سے قطعی توقع نہیں تھی۔
کہانیوں کی بنت کاری کرتے کرتے میں زندگی کے کرداروں کی ادھیڑ بن میں پڑنے لگی تھی۔
جس سے میرا اپنا کردار گم ہونے لگا تھا۔
کبھی پوری کہانی میں میں خود ہوتی اور کبھی پوری کہانی مجھ میں سما جاتی۔
مجھے لگتا میرا قلم تو میرے بس ہے مگر میرے کردار مجھے اپنی انگلیوں پر نچانے لگے ہیں۔
کبھی یہ رقص کتھک کی طرح سٗر اور لے سے ہم آہنگی بناتا ہوا وجود کی تھرتھراہٹ سے سکون کشید کرتا تو کبھی دور جدید کے بے ہنگم ڈھول ڈھمکے کے سوا کچھ نہ لگتا۔
کردار مجھے اپنے آس پاس محسوس ہوتے۔ میرا قلم خاموش ہوجاتا اور کردار بولنے لگتے۔
کبھی میں خود کو خاموش تماشائی پاتی اور کردار ایک دوسرے سے الجھتے رہتے۔
میرے لیے جہاں کہانی لکھنا دلچسپ تھا وہیں مشکل بھی ہوتا جا رہا تھا۔
جیسے زندگی ہماری مرضی سے نہیں چلتی۔
بھلے ہم اپنے لیے لیے جانے والے فیصلوں کی جتنی بھی منصوبہ بندی کر لیں۔
بالکل ویسے ہی کہانی کے کردار بھی ہماری مرضی سے نہیں چلتے۔کبھی لگتا کہانی لکھتے لکھتے میں خود ایک کہانی بن گئی ہوں۔
اپنے کرداروں میں کھوئی کھوئی میں خود کو لکھنے لگی ہوں۔
غور کرنے پر لفظ مجھے میرا اپنا آپ سناتے محسوس ہوتے۔
خود کو لکھنا قطعی آسان نہیں۔
اپنے آپ سے ایمان دار رہنا اور سچائی کے ساتھ جوں کا توں لکھ دینا جوئے شیر لانے جیسا ہے۔

میں کسی نا کسی طرح اپنے کرداروں اور خود کو اپنے قابو میں کرنے کی کوشش میں لگی رہتی اور ایسے ہانپنے لگتی جیسے صحرا میں بن آب کئی سو کلومیٹر کا سفر کر لیا ہو اور شجر سایہ دار کی خواہش ہو۔
انہیں دنوں میری زندگی میں ایک خوش گوار موڑ آیا گویا صحرا میں اچانک شجر سایہ دار اگ آیا تھا۔
مجھے یک دم زندگی اچھی لگنے لگی تھی۔
جی چاہتا اس گھنے سائے کے نیچے سکون سے بیٹھ جاؤں جو خود ہی ہواؤں کو پیغام بھیجے اور بادلوں کو گھیر لائے۔
چھماچھم مینھ برسے اور تن من سیراب ہوجائے۔
اور پھر مینھ چھماچھم ہی برسنے لگا تھا اور میں سیراب ہو رہی تھی۔
مگر پیاس تھی کہ بڑھتی جاتی تھی۔
امی کی تیز نظروں سے یہ سب چھپا نہیں رہ سکتا تھا۔
وہ کئی ماہ سے مجھ پہ شادی کے لیے دباؤ ڈال رہی تھیں اور میری صحت کو لے کر بھی تشویش میں مبتلا تھیں۔
چند دن پہلے ہی انہوں نے مجھے ٹوکا بھی تھا۔
"نمیرہ! تم رات کو سوتی نہیں ہو؟
آنکھوں کے گرد حلقے بنے ہوئے ہیں۔
اور چہرہ دیکھو کیسے کملایا ہوا ہے۔”
میں نے کئی بار تمہیں رات کو بالکنی میں باتیں کرتے بھی سنا ہے۔
میں نے بے اختیار چہرے پہ ہاتھ پھیر کر نادیدہ کملاہٹ کو محسوس کرنا چاہا تھا۔
میرا تو خیال تھا کہ میں آج کل اور بھی خوب صورت ہوگئی ہوں پھر امی یہ سب کیسے کہ رہی تھیں۔
البتہ ان کی پہلی بات بالکل درست تھی۔
نیند بلکہ چین،سکون تو اب کسی اور کے قبضے میں تھا۔
کہانی لکھنے والی کی زندگی کی کہانی کو کوئی اور لکھنے لگا تھا۔
یہ بات ناگوار ہوتے ہوئے بھی گوارہ تھی۔
میں نے پہلی بار خود کو راضی برضا محبت کے حوالے کردیا تھا۔مگراس رضا کے پیچھے عجیب چبھنے والی بے چینی تھی جو مجھے نڈھال رکھتی تھی۔
جسے شاید امی بھی سمجھ رہی تھیں۔
میں نے امی کی باتوں کو دانستہ نظر انداز کیا۔
جون کا گرم ترین مہینا چل رہا تھا مگر
منظر انتہائی خوب صورت تھا۔اونچے گھنے بڑ کی ٹھنڈی چھاؤں نے ٹیوب ویل کے پانی کو اور بھی ٹھنڈا کردیا تھا۔
شفاف چاندنی نے ماحول کو خواب ناک بنا رکھا تھا۔
ٹیوب ویل کے تالاب میں چاند اور چاندنی اٹکھیلیاں کر رہے تھے۔
تبھی سفید شفاف پاؤں نے پانی کو ایک جھٹکے سے اچھالا اور دھیمی دھیمی کھلکھلاہٹ نے ماحول میں سریلی گھنٹیاں بجا دیں۔
گیلے دو ہاتھوں نے نم چہرے کو چھوا تو ایک ادا سے ہاتھ کو پیچھے جھٹک دیا گیا۔
"کہا ہے نا ؟
مجھ سے بات نہیں کرو۔
اب وہی ہاتھ بھیگی زلفیں سنوارنے کی چاہ میں سرسرائے تو ناراضی بھری آواز ابھری۔
"بس کرو”.
کب تک اماں کو ٹالتی رہوں۔
آتے ہو،چلے جاتے ہو۔
تمہارے لیے بیٹھی رہوں کیا؟”
"ہاں تو؟ کس کے لیے بیٹھنا ہے۔”
شوخ لہجے نے محبت لٹائی۔
"میں تو اس وقت کو یہیں تمہاری آنکھوں میں قید کرکے ہمیشہ کے لیے خود کو بھی قید کر دینا چاہتا ہوں”. قربتیں ہمراز بنیں اور پھر دو وجود تالاب کے پانی میں بھیگنے لگے۔
محبت چاند اور چاندنی کے سنگ جھانجھر پہنے رقص کرنے لگی۔

ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا اور امی کی آواز کمرے میں گونجی۔
"نمیرہ! کون ہے یہاں؟
پھر انہوں نے بے چینی سے ادھر ادھر میرا فون تلاشا ۔جس کی مجھے خود بھی خبر نہیں تھی۔
میں حیران پریشان رات کے ڈیڑھ بجے یہ سب دیکھ رہی تھی۔
میرے ہاتھ میں کاغذ قلم تھا۔
جسے امی نے چھین کر دور پھینکا۔
"میں نے ابھی تمہیں کسی سے ناراض ہوکر بات کرنے اور پھر کھلکھلا کر ہنسنے کی آواز سنی ہے۔سارا کمرہ چھان مارا یے۔
بتاؤ بیٹا وہ کون ہے اور اتنی جلدی کہاں گیا؟”

میرے کمرے کی کھلی کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے انہوں نے کسی قدر بے بسی سے پوچھا۔
میرے پاس بولنے کو کچھ نہیں تھا۔
بس آنسو ٹپ ٹپ بہنے لگے تھے۔

اگلے کئی دن گھر میں سناٹا راج نافذ رہا جسے بالآخر انھوں نے ہی توڑا۔

” میں نے بہت بار تمہیں کسی سے وہ سب کہتے سنا ہے جو کسی لڑکی کو بس اپنے شوہر سے ہی کہنا چاہیے۔
میں نے نظر انداز کیا کہ چلو محبت ایسی ہی سدھ بدھ چھین لینے والی کیفیت ہوتی ہے۔
میں ایسی ظالم ماں نہیں جو تمہاری خواہش کا احترام نہ کروں۔
نمیرہ! محبت میں عزت سب سے زیادہ اہم ہے۔
یوں نامحرم کے ساتھ ٹیوب ویل کے تالاب میں رقص اور ۔۔۔۔
میرے لیے قطعی ناقابل برداشت ہے۔”
میرا منھ کھلے کا کھلا رہ گیا۔
"امی نے یہ سب کیسے دیکھا اور کب دیکھا”.
بہت سے الفاظ میرے حلق میں پھنسنے لگے۔
وہ الفاظ جو مجھے لکھنے تھے۔جنہیں میں امی کو بتاتے ہوئے محض اس لیے گھبراتی تھی کہ وہ کیا سوچیں گی۔

کہانی مجھے گھیر چکی تھی۔
سبھی لفظ گونگے ہوچکے تھے۔
میرا قلم خاموش تھا مگر کہانی جاری تھی۔
میں سمجھنے سے قاصر تھی چاروں اور میں بکھری تھی یا میری کہانی۔
امی کی باتوں سے مجھے ان کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ اور خود پہ کیا گیا اعتبار رلا رہا تھا۔
کہانی مکمل ہوکے بھی نامکمل تھی۔

نام ور ناموں کی فہرست میں میں شاید پہلے نمبر پہ ہونے والی تھی یا سرے سے میری جگہ ہی نہیں بنتی تھی۔
البتہ زندگی کی باقیات میں سے میں خود باقی رہنا چاہتی تھی۔

” میران حیدر! یہ مجھے کس موڑ پہ لے آئے ہو۔”
میں نے ہاتھ میں پکڑے کورے کاغذ کو دیکھا اور بے بسی سے آنکھیں بند کر لیں۔
میں بھلا میران حیدر کو کیسے بلاؤں جو کہیں تھا ہی نہیں۔
وہ تو میری کہانی کا ایک کردار تھا جسے لکھتے لکھتے میں اس کی محبت میں مبتلا ہوگئی تھی۔
مجھے اپنی بے بسی پہ شدید رونا آیا۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x